شامی محاذ سے لوٹنے والے سعودی نوجوان کی داستان

"سیکڑوں سعودی نوجوان خوف کے مارے وطن واپسی سے گریزاں ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف 'جہاد' پر اکسانے والے مبلغین کی تعلیمات سے متاثر ہو کر محاذ جنگ پر جانے والا سعودی عرب کا ایک نوجوان جنگ مخالف علماء کی تلقین سے محاذ سے لوٹ آیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صحافی داؤد الشریان کی میزبانی میں پیش کیے جانے والے ایم بی سی ٹیلی ویژن کے پروگرام" الثامنہ" میں سعودی نوجوان کی شامی محاذ جنگ سے واپسی پر مشتمل ایک رپورٹ نشرکی گئی۔ اس رپورٹ میں جنگ سے توبہ کرنے والے نوجوان مسفر محمد، اس کی والدہ ام محمد اور کئی دوسرے عزیز و اقارب کے تاثرات بھی پیش کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں مسفر کا کہنا تھا کہ آغاز میں اس کا شام جانے اور جنگ میں حصہ لینے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ شامی جنگ کے حامی بعض علماء جن میں سخت گیر مبلغ الشیخ عدنان العرعور اور دیگر کی جانب سے شامی جنگ میں حصہ لینے کو فرض عین قرار دیا گیا تو میں بھی ان کے کہنے پر کئی دوسرے سعودی نوجوانوں کے ہمراہ شام چلا گیا۔

بقول مسفر وہاں جانے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ یہ ایسا جہاد ہے جس میں مسلمان ہی دوسرے مسلمان کا گلا کاٹ رہا ہے۔ میرا دل پہلے ہی نہیں لگتا تھا۔ میں نے مائیکرو بلانگ ویب سائٹ "ٹیوٹر" پر سعودی علماء کے فتوے دیکھے جن میں انہوں نے شام کے محاذ جنگ میں شرکت کو "حرام" قرار دیا تھا تو میرا جنگ سے اور اچاٹ ہو گیا۔ چنانچہ جید علماء کی آراء سامنے آنے کے بعد میں نے شام کا محاذ جنگ چھوڑنے کا حتمی فیصلہ کیا۔

ریکارڈ کی گئی رپورٹ میں مسفر محمد کی والدہ ام محمد کے تاثرات بھی ہیں۔ ام محمد نے اس کے بیٹے کو شام کے میدان جنگ میں لے جانے کا باعث بننے والے مبلغین کو خوب کوسا اور اس کے لخت جگر کے زندہ سلامت واپس لانے میں کردار ادا کرنے والے علماء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ ام محمد کا کہنا تھا کہ مجھے بیٹے کی زندہ واپسی کی کوئی امید نہیں تھی۔ میں تو صرف ہر وقت یہ سوچتی رہتی تھی کہ کب خون میں لتھڑے بیٹے کی لاش میرے سامنے ہو گی۔

شام کے محاذ جنگ سے واپس آنے والے مسفر محمد نے بتایا کہ شام میں 'جہاد' کے لیے جانے والے سیکڑوں سعودی نوجوان اب پچھتا رہے ہیں۔ وہ واپس اپنے ملک میں آنا چاہتے ہیں لیکن انہیں بتایا جاتا ہے کہ وطن واپسی پر انہیں گرفتار کر کے جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا۔

مسفر نے بتایا کہ اسے واپسی پر حراست میں لیے جانے اور جیلوں میں تشدد برداشت کا نشانہ بننے کا خوف تھا لیکن اس کے باوجود میں نے شام کا محاذ جنگ چھوڑ دیا۔ اس نے کہا کہ اگر سعودی عرب میں شام سے واپس آنے والوں کو سنگین سزاؤں جیسی افواہوں کو ختم کر دیا جائے تو بڑی تعداد میں نوجوان واپس آ سکتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں مسفر نے بتایا کہ ہم جن لوگوں کو جہادی سمجھتے ہیں وہ شام میں کھلے عام شراب پیتے اور دوسرے ملکوں سے لائی گئی عورتوں کے ساتھ دل بہلاتے ہیں۔ ایسا نہ صرف جیش الحر کے لوگ کر رہے ہیں بلکہ القاعدہ کی حامی تنظیم"النصرہ فرنٹ" جیسے گروپ بھی ان برائیوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ جیش الحر اور القاعدہ کے گروپ دونوں ایک دوسرے کو کافر سمجھتے ہیں اور جو ان کی خواہشات پر نہ چلے وہ بھی کافر قرار دیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں