مصر:سلفی عالم صفوت حجازی کوایک سال قید بامشقت کی سزا

پولیس اکیڈمی قاہرہ میں قائم عدالت کے ججوں کی توہین پر علامہ کے خلاف فوری فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی ایک عدالت نے سلفی مبلغ اور حکومتی عتاب کا شکار اخوان المسلمون کے اہم اتحادی علامہ صفوت حجازی کو ججوں کی توہین کے الزام میں ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔

سلفی عالم دین کو یہ سزا بدھ کو دارالحکومت قاہرہ کی پولیس اکیڈمی میں قائم عدالت میں ایک اور مقدمے کی سماعت کے دوران ججوں کے خلاف توہین آمیز ریمارکس دینے پر سنائی گئی ہے۔

اس عدالت میں علامہ حجازی اور برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی سمیت ایک سو تیس افراد کے خلاف 2011ء میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران جیل توڑ کر فرار ہونے کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

وہ مسلح افواج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں 3 جولائی 2013ء کو منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک میں پیش پیش رہے تھے۔انھوں نے فوجی اقدام کی سخت مخالفت کی تھی اور اس کے خلاف تندو تیز تقریریں کی تھیں۔وہ قاہرہ میں اخوان المسلمون اور اس کی اتحادی جماعتوں کے کارکنان کے دھرنوں میں مرکزی مقررین میں سے ایک تھے۔

وہ مصری سکیورٹی فورسز کے 14 اگست کو ان دھرنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد روپوش ہوگئے تھے لیکن چند روز کے بعد ہی 21 اگست کو انھیں لیبیا کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے سیوہ مطروح میں ایک چیک پوائنٹ پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔تب ان کے بارے میں یہ کہا گیا تھا کہ وہ مصر سے سرحد عبور کرکے لیبیا جانے کی کوشش کررہے تھے۔ان کے خلاف لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے الزام میں الگ سے ایک اور مقدمہ بھی چلایا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں