شام میں باغیوں کے ہاتھوں ہلاک چار ایرانی سپرد خاک

مقتولین شام میں مزارات کی حفاظت پر مامور تھے: تہران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گذشتہ دو روز میں شام میں جاری لڑائی میں ایران کے کم سے کم چار شہری ہلاک ہوئے جن کی میتیں ایران میں ان کے آبائی شہروں میں لے جانے کے بعد انہیں سپرد خاک کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی میڈیا پر جو خبریں سامنے آئی ہیں ان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مرنے والے چاروں افراد شام میں "مقدس مقامات" اور بزرگ ہستیوں کے مزارات کی حفاظت کی خدمت انجام دے رہے تھے، تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا وہ شام کے کس شہر میں مارے گئے۔

خیال رہے کہ ایرانی حکومت مسلسل یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ وہ شام میں براہ راست مداخلت نہیں کر رہی بلکہ شام میں جو ایرانی موجود ہیں وہ وہاں پر مقدس مقامات اور مزارات کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ایران کا یہ دعویٰ افغانستان، عراق اور یمن میں موجود اپنے باشندوں کے بارے میں بھی رہا ہے۔

حسب روایت ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ دو روز میں مارے گئے چاروں ایرانی دمشق میں سیدہ زینب کے مزار کی حفاظت پر مامور تھے۔

فارسی نیوز ویب پورٹل صبح توس کی رپورٹ کے مطابق شمال مغربی ایرانی شہر مشہد میں احمد عارفی اور جعفر حسنی کی میتیں لائی گئیں جنہیں خاموشی سے سپرد خاک کر دیا گیا۔ یہ دونوں دمشق میں امام الرضاء اور سیدہ زینب کے مزار کی حفاظت کر رہے تھے۔

شام میں مارے گئے جواد سجادی نامی ایک ایرانی کو جنوب وسطی شہر شیراز میں دفن کیا گیا جبکہ محرم علی بورکان کو صوبہ آزربائیجان میں گذشتہ روز سپرد خاک کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں