مصری وزیرعدل کاعدل:پھانسی کی سزاؤں پرتنقید مسترد

اخوان کے مرشدعام سمیت 19کارکنان کو توہینِ عدالت پر ایک،ایک سال قید بامشقت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مصر کے وزیرانصاف نیّرعثمان نے اخوان المسلمون کے قائدین اور کارکنان کے اجتماعی ٹرائل اور ان میں سے 680 کو سنائی گئی پھانسی کی سزاؤں کے خلاف عالمی سطح پر کی جانے والی تنقید کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے ملک کی عدلیہ آزاد ہے اور وہ انتظامیہ کی آلہ کار نہیں ہے۔سزائے موت کے فیصلوں کو نظرثانی کی اپیل میں ختم بھی کیا جاسکتا ہے۔

مسٹر نیّرعثمان بدھ کو دارالحکومت قاہرہ میں ججوں کی حمایت میں صحافیوں سے گفتگو فرما رہے تھے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ ''مصری جج صاحبان آزاد ہیں اور ان پر کسی کا کنٹرول نہیں ہے۔ریاست میں کوئی بھی ججوں کو ہدایات جاری نہیں کررہا ہے کوئی وزیر یا عہدے دار کوئی بھی نہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''سزائے موت کے فیصلے کے خلاف پراسیکیوٹر مدعاعلیہ کے ساتھ مل کر اپیل دائر کرسکتا ہے۔جج بھی ایک انسان ہے اور اس سے بھی کسی دوسرے انسان کی طرح غلطی ہوسکتی ہے''۔

مصری وزیرعدل نے یہ تو اعتراف کیا ہے کہ جج بھی غلط فیصلہ کرسکتا ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی ارشاد کیا کہ ''عدلیہ کے فیصلوں پر کسی بھی طریقے سے تنقید ناقابل قبول ہے۔ہم کسی بھی طرح کی مداخلت کو قبول نہیں کرتے ہیں''۔

واضح رہے کہ مصری عدالتوں کی جانب سے اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع سمیت سیکڑوں کارکنان کو گذشتہ دو ایک ہفتوں کے دوران سنائی گئی پھانسی کی سزاؤں پر عالمی سطح پر سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور بعض مبصرین نے ان سزاؤں کو انصاف کے قتل کے مترادف قراردیا ہے۔امریکا سمیت مختلف ممالک اور انسانی حقوق کی عالمی تنظِموں نے اخوان کے کارکنان کو مختلف الزامات میں سزائے موت دینے کے فیصلوں پر کڑی تنقید کی ہے۔

قبل ازیں مصری دارالحکومت قاہرہ کی پولیس اکیڈمی میں قائم ایک عدالت نے اخوان المسلمون کے مرشدعام محمد بدیع سمیت اکیس کارکنان اور حامیوں کو توہین عدالت کے الزام میں ایک ایک سال قید بامشقت کی سزا سنا دی ہے۔

ان پر بدھ کو ایک اور مقدمے کی سماعت کے دوران ججوں کی توہین کا الزام عاید کیا گیا ہے۔محمد بدیع اور اخوان کے انیس کارکنان نے کمرۂ عدالت میں احتجاج کے طور پرجج کی جانب پشت کر دی تھی۔اس طرح وہ جج کے بہ قول عدالت کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں۔

ان سے پہلے اسی عدالت کے جج نے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامی سلفی عالم دین صفوت حجازی کو بھی توہین عدالت کے الزام میں ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔ان پر عدالت میں خاموش نہ رہنے اور جج کے ساتھ نامناسب انداز میں گفتگو کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ان سب پر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران ایک جیل کو توڑ کر فرار ہونے کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

ادھر نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے مصری عدالت کے ایک حالیہ فیصلے کی مذمت کی ہے جس کے تحت سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہروں اور مہم کو منظم کرنے میں پیش پیش 6 اپریل تحریک پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔

تنظیم نے ایک بیان میں کہا :''اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصری حکومت نے پُرامن حزب اختلاف کو دبانے کے لیے مہم تیز کردی ہے''۔عدالت نے دوروز قبل مبارک مخالف 6 اپریل تحریک پر پابندی عاید کردی تھی اور حکومت کو اس کے دفاتر پر سرکاری قبضے میں لینے کا حکم دیا تھا۔

اس تحریک کے خلاف قاہرہ کی فوری امور کی عدالت میں ایک وکیل اشرف سعید نے درخواست دائر کی تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قراردیا تھا کہ درخواست گزار نے جو ایشوز اٹھائے تھے،وہ حقیقی خطرے کی عکاسی کرتے ہیں۔اس لیے یہ ضروری ہے کہ ملک کو اس خطرے سے نجات دلا دی جائے۔

وکیل نے اپنی درخواست میں تحریک پر الزام عاید کیا تھا کہ اس نے امریکا سے تحفظ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی،میڈیا کو ملک میں انارکی پھیلانے کے لیے استعمال کیا تھا اور اس نے سکیورٹی اداروں کی عمارت پر حملے کیے تھے۔اس میں 2011ء میں مصر کی داخلی خفیہ ایجنسی کے ہیڈکوارٹرز پر حملے کی جانب اشارہ کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں