مالکی اپنے سیاسی اتحاد کی انتخابی کامیابی کے بارے میں پُرامید

"تمام گروپ ماضی کو بھول کر نئے مستقبل کی جانب سے گامزن ہوں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق میں گذشتہ روز ہونے والے خونی انتخابات کے بعد وزیر اعظم نوری المالکی نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کا سیاسی اتحاد ہی ان پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گا۔

میڈیا سے گفتگو میں نوری المالکی کا کہنا تھا کہ ''ہماری فتح یقینی ہے مگر ہم اس وقت اس کامیابی کی اہمیت کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔"

نوری المالکی کا کہنا تھا کہ "آج ہم یہاں پر غیر ملکی فوجیوں کی عراق میں عدم موجودگی کے باوجود کامیاب الیکشن کا انعقاد ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ میں تمام گروپوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ماضی کو چھوڑ دیں اور برادرانہ تعلقات کا ایک نیا باب شروع کریں۔"

درایں اثناء ذرائع نے مقامی نیوز ویب سائٹ السماریہ کو بتایا ہے کہ ابتدائی نتائج کے مطابق مالکی کا بلاک "سٹیٹ آف دی لا" اس وقت سب سے آگے ہیں۔

مگر مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بار بھی 2010ء کے الیکشن کی طرح کوئی ایک بلاک ایوان میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔ سال 2010ء میں الیکشن میں کسی ایک بلاک کو اکثریت نہ ملنے کی وجہ سے عراقی کئی مہینے تک حکومت کے قیام کے لئے مذاکراتی عمل کا انتظار کرتے رہے تھے۔

اس الیکشن کو کامیاب بنانے کے لئے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے اور لاکھوں کی تعداد میں فوجی اور پولیس اہلکاروں کو پورے ملک میں پولنگ اسٹیشنز کی حفاظت کے لئے تعینات کیا تھا۔

چار بچوں کی ماں اظہر محمود نے بتایا کہ انہوں نے اپنے شوہر کے ہمراہ صبح ہی ووٹ کاسٹ کر دیا۔ ان کے خیال میں رش والی جگہوں پر حملوں کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

خاتون نے بتایا کہ ان کا بھائی ایک فوجی تھا اور اسے پچھلے ہفتے ہی موصل کے شمالی علاقے میں قتل کردیا گیا تھا۔ خاتون کے مطابق،" اس ملک کو جس طرح سے چلایا جا رہا تھا اس طریقے میں بہت کوتاہیاں تھیں اسی لئے اب نئے لوگوں کے انتخاب کا وقت آ گیا ہے۔

عراق میں انتخابات کے دوران شمالی اور مغربی بغداد میں کئی حملے ہوئے جن کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک جبکہ 16 زخمی ہوگئے تھے۔

عراقی الیکشن کمیشن کے سینئر ممبر مقداد الشریفی عراق میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تقریبا دو کروڑ بیس لاکھ کے قریب ہے جن میں تقریبا 60 فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ذمہ داروں نے ابھی تک نتائج کے اعلان کا ٹائم ٹیبل جاری نہیں کیا ہے مگر انہوں نے بتایا ہے کہ کچھ ہی دنوں میں نتائج الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کے حوالے کر دیے جائیں گے۔

درایں اثنا غیر شیعہ پارٹیوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں ووٹںگ سے باز رکھنے کے لئے ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں اور نوری المالکی ان کے نمائندوں کی پارلیمنٹ میں تعداد کم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں