.

آئی سی سی نے اخوان کی درخواست مسترد کر دی

درخواست میں قاہرہ فوجی ایکشن کی تفتیش کا مطالبہ کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی فوجداری عدالت [آئی سی سی] نے مصر میں مبینہ انسانیت سوز فوجی جرائم کی تفتیش کے لیے معزول صدر محمد مرسی کی دائر کردہ درخواست مسترد کر دی ہے۔

آئی سی سی کے ایک بیان کے مطابق: "عالمی فوجداری عدالت مصر کے معاملات میں سماعت کا اختیار نہیں رکھتی کیوںکہ تفیتش کی درخواست متعلقہ ریاست نے نہیں بلکہ ایک گروپ نے ارسال کی ہے۔"

یاد رہے یہ درخواست معزول صدر کی جماعت اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی نے بھیجی تھی۔ محمد مرسی سے مصری فوج نے اقتدار چھین لیا تھا، جس کے بعد عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی جس میں جون 2013ء کے بعد سے مصر میں ہونے والے مبینہ انسانیت سوز جرائم کی تفتیش کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

درخواست میں ایک گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد کے مبینہ قتل، غیر قانونی حراست، تشدد اور تنظیم کے ارکان کو لاپتا کرنے کے شواہد بھی فراہم کئے گئے تھے۔ درخواست میں مظاہرین کو نشانہ بنا کر قتل کئے جانے اور بلڈوزروں تلے کچلے جانے کے الزامات بھی لگائے گئے۔

واضح رہے کہ چودہ اگست 2013 کو کم از کم 627 افراد اس وقت لقمہ اجل کا نشانہ بن گئے جب مصری سیکیورٹی فورسز نے قاہرہ کے رابعہ العدویہ اسکوئر میں سابق صدر مرسی کے حامیوں کے ایک دھرنے کو منتشر کیا۔ یہ واقعہ مصر کی حالیہ تاریخ میں سب سے بڑے قتل عام کا واقعہ قرار دیا جاتا ہے۔

عالمی فوجداری عدالت کو دی جانے والی اس درخواست میں مصری فوج کے بعض عہدیداروں کو ملزم نامزد بھی کیا گیا تھا تاہم وکلاء نے ان افراد کے نام میڈیا کو جاری نہیں کیے۔

ہہ امر باعث دلچسپی ہے کہ مصر نے اب تک عالمی فوجداری عدالت کی بنیاد بننے والے قانون کی توثیق نہیں کی۔ قانونی طور پر عدالت صرف اسی ملک کے معاملات میں تفتیش کا اختیار رکھتی ہے، جس نے نے روم اسٹیٹوٹ کی توثیق کر رکھی ہو اور تفتیش کی درخواست یا تو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے دی ہو یا پھر اسے مصری حکومت نے دائر کیا ہو۔

گذشتہ ہفتے ایک مصری عدالت نے اخوان المسلمون کے 683 کارکنوں کو سزائے موت سنائی تھی۔ ان میں اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع بھی شامل ہیں۔ معزول مصری صدر محمد مرسی اس وقت سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور جیل توڑنے کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ جولائی کے مہینے میں ان کے حامیوں پر کریک ڈائون کے بعد سے اب تک تقریبا 1400 افراد ہلاک جبکہ 15000 جیلوں میں قید ہیں۔