.

"لبنان میں بھنگ کاشت کرنے کی اجازت دی جائے"

رکن پارلیمنٹ اور دروز رہنما ولید جنبلاط کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی پارلیمنٹ کے رکن اور دروز قبیلے کے رہنما ولید جنبلاط نے طبی مقاصد کیلیے بھنگ کی کاشت کو ملک میں قانونی حیثیت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ماضی میں اس کی کاشت سے لبنان کو اربوں ڈالر کی آمدنی ہوتی تھی۔

دروز رہنما نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ''میں بھنگ کی کاشت کی حمایت کرتا ہوں تاہم صرف طبی مقاصد اور ضروریات کیلیے نہ کہ ذاتی مقصد کیلیے۔ وادی البقاع کو اس کی کاشت کا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔ واضح رہے وادی البقاع شروع سے ہی اس 'غیر قانونی' مگر 'منفعت بخش' بوٹی کی کاشت کیلیے معروف اور موزوں ہے۔"

پارلیمنٹ کے رکن نے کہا ''مرحوم رفیق الحریری کے دور حکومت میں بھی ایسی کوشش کی گئی تھی، جس کا مقصد وادی بقاع میں اس کی متبادل فصل تیار کرنا تھا لیکن یہ منصوبہ ناکام ہو گیا تھا۔ خیال رہے بھنگ کے متبادل کے طور پر حکومت نے زعفران سمیت مختلف فصلیں کاشت کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن توقع کے مطابق کامیابی نہ ہو سکی تھی۔

متبادل فصلوں کے اس پروگرام کی ناکامی کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کو بے روزگار ہونا پڑا تھا۔ اس صورتحال میں ولید جنبلاط کا کہنا ہے کہ ''اس فصل کو طبی ضروریات کے لیے قانونی حیثیت دی جانی چاہیے تاکہ معقول آمدنی بھی ہو جائے اور اس کے محفوظ استعمال سے نقصان بھی نہ ہو۔ اس موقع پر ولید جنبلاط نے ترکی کی بھی مثال دی۔"

لبنان نے اس منافع بخش بوٹی کی کاشت بین الاقوامی دباو کی وجہ سے 1990 سے روک رکھی ہے۔ اس سے پہلے لبنان کو اس سے اربوں ڈالر سالانہ کی آمدنی ہوتی تھی۔ اس نشہ آور بوٹی کی کاشت سے وابسہ کسانوں نے بھی پابندی عاید کرنے کی مخالفت کی تھی۔