.

سیسی، صباحی نے صدارتی انتخاب مہم شروع کر دی

سوشل میڈیا مصر میں ون ٹو ون صدارتی مہم کا خصوصی میدان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں گذشتہ روز بم دھماکے میں چار افراد کی ہلاکت کے ایک ہی دن بعد ملک میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے دونوں امیدواروں نے ہفتے کے روز سے اپنی انتخابی مہمات کا آغاز کر دیا ہے۔

رواں مہینے 26-27 کو ہونے والے انتخاب میں جمہوری طور پر منتخب ہونے والے صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے والے سابق آرمی چیف عبدالفتاح السیسی قومی جوش و جذبے کی لہر پر سوار ہیں اور بظاہر انتخاب جیتنے کی پوزیشن میں زیادہ نظر آتے ہیں۔

قاہرہ کے کونے کونے میں سیسی کے حامیوں کے اویزآں پوسٹرز میں اسے 'دہشت گردی کے خلاف جنگ میں' ایک مرد آہن کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ اصطلاح گذشتہ جولائی میں صدر مرسی کی اقتدار سے بیدخلی کے بعد اسلام پسندوں کے حملوں میں تیزی کے لیے ایک حوالہ ہے۔

ہفتے کے روز سابق آرمی چیف سیسی نے اپنے ٹیوٹر اکاونٹ پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ "میں مصریوں کو محنت سے کام کرنے پر زور دیتا ہوں۔ میری تمام لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ میری ساتھ ذمہ داری میں شریک ہوں۔ یہ ملک ہم سب کی ذمہ داری ہے۔"

عبدالفتاح السیسی کے حامی سوشل میڈیا پر 'مصر زندہ باد' ہیش ٹیگ کے تحت ان کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

سابق آرمی چیف کو ٹیوٹر کے @AlsisiOfficial اکاونٹ پر فالو کیا جا سکتا ہے جہاں فی الوقت انہیں نوے ہزار شہری فالو کر رہے ہیں۔ جنرل السیسی کا مقابلہ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے حمدین صباحی سے ہے۔ 'جوان' مصر کے خواہاں صباحی سنہ 2012 کے انتخاب میں تیسرے نمبر پر آئے تھے۔

بالائی مصر کے سب سے بڑے شہر اسیوط میں گذشتہ روز ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صباحی کا کہنا تھا کہ "ہم مصر کو پرانے اور کمزور ملک کے طور پر متعارف نہیں کرانا چاہتے، ایک جوان مصری ریاست ہمارا حق ہے۔"

انہوں نے کہا کہ صدارتی انتخاب کا مرحلہ انقلاب کو حکومت تک لیجانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہے۔ انہوں نے بالائی مصر کے عوام کو ایک نئی معاشی سکیم دینے کا وعدہ کیا جس کے ذریعے شہر مشرقی سمت بحیرہ احمر سے ملانے کے لیے نئے چینلز بنائے جائیں گے۔

صباحی کو ان کے ٹیوٹر اکاونٹ @SabahyCampaign پر 101 ہزار افراد فالو کرتے ہیں۔ وہ "ہم اپنا خواب جاری رکھیں گے" کے ہیش ٹیگ کے تحت مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر صدارتی مہم چلا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صدارتی مہم میں انہوں نے ملک میں گرے پڑے عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کی خاطر چھوٹے کاروبار کو فروغ دینے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ وہ صدر بن کر مزدور کی اجرت کم سے کم 171 ڈالر کرنا چاہتے ہیں۔