.

شامی اپوزیشن رہنما احمد الجربا کو دورہ امریکا کی دعوت

واشنگٹن حکام سے میزائل اور جہاز لینے کی کوشش کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل نیشنل الائنس کے سربراہ احمد الجربا بدھ کے روز امریکا کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ تین برس قبل بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والی جدوجہد کے بعد کسی بھی شامی انقلابی رہنما کا یہ پہلا دورہ امریکا ہو گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنے ذرائع سے ملنے والی اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ احمد الجربا اپنے دورہ امریکا میں واشنگٹن سے طویل المعیاد حکمت عملی پر تبادلہ خیال کریں گے۔ وہ امریکی حکام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کریں گے کہ ان کی قیادت میں شامی اپوزیشن کا نمائندہ اتحاد ہی شامی میدان سیاست میں امریکا کا فطری اتحادی ثابت ہو سکتا ہے۔ وہ امریکی کارپردازوں کو اس بات پر قانع کرنے کی کوشش کریں گے کہ شامی نیشنل کونسل ہی دراصل شام میں ایران کی حلیف آمریت کا بہترین متبادل ثابت ہو گا۔

احمد الجربا کو اس بات کا مکمل اداراک ہے کہ بدھ کے روز شروع ہونے والے ان کے دورہ امریکا میں چند امریکی عہدیداروں سے ملاقاتیں ان کے مقاصد کی تکمیل نہیں کر پائیں گی، تاہم شامی اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ مسٹر جربا واشنگٹن کو یہ باور کرائیں گے کہ امریکا سے چھوٹے چھوٹے معاملات طے پانے سے ہی دونوں فریقین کے درمیان اعتماد بڑھے گا، جسے مکمل ہونے میں کئی مہینے یا سال لگ سکتے ہیں۔

شامی اتحاد سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ احمد الجربا کو اس دورے کی دعوت امریکی صدر باراک اوباما نے دی ہے جو اس بات کا کافی و شافی اشارہ ہے کہ امریکا، شامی اپوزیشن سے معاملات کرنا چاہتا ہے۔ یاد رہے کہ صدر اوباما کی احمد الجربا کو دورہ امریکا کی دعوت، اول الذکر کے حالیہ دورہ سعودی عرب میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کے بعد سامںے آئی ہے۔

شامی اپوزیشن چاہتی ہے امریکی صدر کے دورہ ریاض کے بعد ان کے موقف میں پیدا ہونے والی تبدیلی کو امریکا سے تعلقات مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس ضمن میں امریکی دفتر خارجہ کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے کہ شامی نیشنل الائنس شامیوں کا نمائندہ فورم ہے اور اسے سفارت خانے سے کم درجے کا تحفظ ملنا چاہے۔

احمد الجربا امریکی حکام سے اپنی ملاقاتوں میں مطالبہ کریں گے کہ واشنگٹن ایسا قانون وضع کرے کہ جس کے تحت جنگی جرائم میں ملوث شامی حکومتی کارپردازوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکے کیونکہ وہ اجتماعی طور پر ابتک 150 ہزار شہریوں کو مٹی کا رزق بنا چکے ہیں۔ نیز بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور کیمیائی اسلحے کا استعمال بھی ایک پہلو ہے جس پر شامی اپوزیشن رہنما امریکی یقین دہانی چاہیں گے۔

شامی اپوزیشن رہنما کو امریکی کانگریس سے اپنے مطالبات کی منظوری کا قوی امکان ہے کیونکہ سینٹ کی خارجہ کمیٹی کے سربراہ ایڈورڈ رائس اور سینئر ڈیموکریٹس شامی اپوزیشن کی حمایت کرتے ہیں۔

شامی حکومت اور اس کے علاقائی حلیفوں کے مقابلے میں اپوزیشن کی مسلح تنظیم احمد الجربا اور ان کے پیش آئندہ دورہ امریکا میں ان کے ہم رکاب عسکری وفد کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ شامی اپوزیشن کے مسلح فوج سن 2012 سے نئی قیادت کی کمان میں خود کو منظم کرنے میں مصروف ہے۔ احمد الجربا امریکی وزیر دفاع چک ہیگل اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل ڈیمپسی سمیت دیگر حکام کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کریں گے کہ جیش الحر کی نئی قیادت معاملات کنڑول کرنے کی پوزیشن میں ہے، اس کے بعد ہی وہ امریکا سے مطلوبہ اسلحہ دینے کی درخواست کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔

العربیہ کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق احمد الجربا اپنے دورہ امریکا میں تین فوجی مطالبے کریں گے۔ پہلا فوجی تربیت کی فراہم، نیز اپوزیشن کی نمائندہ فوج کو ٹینک اور طیارہ شکن میزائلوں کی فراہمی سب سے اہم فوجی مطالبہ ہو گا کیونکہ طیارہ شکن میزائل نہ ہونے کی صورت میں شامی فوج کی فضائی برتری برقرار رہے گی اور اسے شکست دینا آسان نہ ہو گا۔

احمد الجربا کے متوقع دورہ امریکا اور اس میں انجام پانے والے امور کا خلاصہ یہ دورہ ترتیب دینے والے ایک ذریعے نے یوں بیان کیا ہے کہ "یہ دورہ سپیڈ کا نہیں بلکہ میراتھن ہے۔"