.

مذہبی نعرے بازی سے مصری سیاحت کو نقصان پہنچا:السیسی

سابق آرمی چیف کا صدر بننے کی صورت میں سیاحت کو بام عروج پر پہنچانے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرکی مسلح افواج کے سابق سربراہ اور اب مضبوط صدارتی امیدوار عبدالفتاح السیسی نے مذہبی نعرے بازی کو ملک کی سیاحت کی صنعت کے زوال کا ذمے دار ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ مذہبی بیان بازی سے اس صنعت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

مصر میں 26 اور 27مئی کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے ان کی مہم چلانے والوں نے یوٹیوب پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں عبدالفتاح السیسی سیاحت کی صنعت سے وابستہ افراد سے مخاطب ہیں۔اس میں انھوں نے کہا کہ ''جب کبھی سیاحت کے شعبے نے بحال ہونے کی کوشش کی اور تازہ سانس لی تو اس کے بعد وہ اگلا اقدام نہیں کر سکا''۔

عبدالفتاح السیسی نے اس ویڈیو میں حالیہ برسوں میں پیش آئے واقعات کے تناظر میں کہا کہ ''اگر تمام امور بخیروخوبی انجام پاتے تو ہم مصر میں تین سے چار کروڑ تک سیاحوں کی آمد سے متعلق بات کرسکتے تھے''۔اب یہ معلوم نہیں کہ انھوں نے غیرملکی سیاحوں کی مصرمیں آمد سے متعلق ان اعدادوشمار کا کس طرح اندازہ لگایا ہے کیونکہ 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی عوامی انقلاب کے نتیجے میں رخصتی کے وقت مصر میں ہر سال ایک کروڑ تیس لاکھ سے ایک کروڑ چالیس لاکھ تک غیر ملکی سیاح آرہے تھے۔

فیلڈ مارشل السیسی کا کہنا تھا کہ ''سیاحت کے فروغ سے لوگوں کو کمانے کا موقع ملے گا اور ہمیں مصر میں اس سے متعلق شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے''۔انھوں نے حاضرین کو بتایا کہ ان کے پاس سیاحت سے متعلق ایک آئیڈیا ہے کیونکہ وہ قاہرہ کے اس علاقے میں رہتے ہیں جہاں بہت سے مشہور مذہبی سیاحتی مقامات موجود ہیں۔ان میں خان خلیلی ،الجمالیہ اور الازہر بھی شامل ہیں۔

انھوں نے سیاحتی شعبے کے نمائندوں پر زوردیا کہ وہ گذشتہ سال تین جولائی کو اس وقت کے آرمی چیف (یعنی خود عبدالفتاح السیسی) کے ہاتھوں منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کو اس انداز میں پیش کریں کہ یہ سب کچھ عوام کی مرضی سے ہوا تھا،اس سے ماورا یہ کچھ نہیں تھا۔

ان کے بہ قول:''اقتدار کے لیے قوت اللہ کی طرف سے آتی ہے اور اللہ اس کو واپس بھی لے سکتا ہے''۔انھوں نے وعدہ کیا کہ ''اگر وہ جیت گئے تو وہ ایک موثر ٹیم کا انتخاب کریں گے،وفاداری ،دیانت داری ،تخلیقیت اور غیر مختتم توانائی اس کے تقاضے ہوں گے''۔

عبدالفتاح السیسی اور ان کے حریف واحد صدارتی امیدوار حمدین صباحی نے ہفتے کے روز اپنی اپنی انتخابی مہم شروع کی ہے۔السیسی کی صدارتی انتخاب میں جیت یقینی نظر آرہی ہے لیکن اس کے باوجود وہ مصری قومیت پرستی کا پھریرا لہرا رہے ہیں اور خود کو ایک ایسے مرد آہن کے طور پر پیش کررہے ہیں جو مصر کو درپیش تمام مسائل کے حل کے لیے امرت دھارا کا کام دے گا۔

حمدین صباحی نے مصر کے جنوبی شہر اسیوط میں ایک نیوز کانفرنس سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا ہے۔اس موقع پر انھوں نے کہا کہ وہ ملک سے غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ کریں گے اور سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں کا خاتمہ کریں گے جن کے تحت دارالحکومت کی ترقی پر ہی توجہ مرکوز کی جاتی رہی ہے اور جنوب کو بالکل نظرانداز کردیا گیا تھا۔

بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صباحی نے اس عزم کا بھی اظہار کیا ہے کہ اگر وہ ملک کے صدر منتخب ہوگئے تو وہ فوج کو سیاست میں مداخلت سے دور رکھیں گے۔وہ موجودہ عبوری حکومت کے جاری کردہ ایک متنازعہ قانون کا خاتمہ بھی چاہتے ہیں جس کے تحت پولیس کی پیشگی اجازت کے بغیر احتجاجی مظاہروں پر پابندی ہے اورگذشتہ سال کے آخر میں اس قانون کے نفاذ کے بعد ہزاروں کی تعداد میں سیاسی کارکنان کو احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں پکڑ کر پس دیوار زنداں کردیا گیا ہے۔