.

اسرائیلی سکیورٹی ادارے کی یہودی انتہا پسندوں سے چشم پوشی

ادارے کے سابق سربراہ کا فوجی ریڈیو سے انٹرویو میں اظہار خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی سکیورٹی ادارے شین بیت کے سابق سربراہ نے کہا ہے کہ ادارے کے موجودہ سربراہ شدت پسند قوم پرست یہودیوں کی طرف سے حالیہ دنوں میں فلسطینیوں اور عربوں کی جائیدادوں کی تباہی کے واقعات کو سنجید گی نہیں دیتے ہیں۔ کارمی گیلون کے مطابق انہیں یقین ہے کہ یورام چوہن مذکورہ تباہی کو روکنے کیلیے کافی وسائل بروئے کار نہیں لا رہے ہیں۔

سابق سربراہ نے فوجی ریڈیو سے انٹرویو میں سکیورٹی ادارے کے سربراہ کی موجودہ حکمت عملی کا ذکر کرتے ہوئے کہا '' شدت پسندی کی سوچ رکھنے والے قوم پرست یہودیوں کی طرف سے تباہ کاری کے اقدامات کو وہ بہت معمولی سمجھتے ہیں اور ان کے خیال میں ان واقعات سے کوئی بڑا خطرہ درپیش نہیں ہو گا۔ ''

واضح رہے یہودی بستیوں کے گردا گرد انتہا پسندوں کیلیے بطور خاص تعمیر کی گئیں بستیوں نے حالیہ برسوں میں فلسطینیوں کے بارے میں اسرائیلی پالیسیوں پر عدم اطمینان ظاہر کرنے کیلیے فلسطینیوں اور اسرائیلی عربوں کی جائیدادوں کیخلاف تباہ کن کارروائیاں کی ہیں۔ لیکن ان شر پسند یہودیوں میں سے محض چند کو ہی گرفتار کیا گیا۔ اس کے مقابلے میں انسداد توہین لیگ نے اسرائیلی حکومت سے کریک ڈاون بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثناء پولیس کے ترجمان مائیکی روزن فیلڈ کے مطابق ان تباہی پھیلانے والوں نے ایک فلسطینی گاوں اور دو قریبی اسرائیلی شہروں پر چڑھائی کر دی۔ گاڑیوں کے ٹائر پھاڑ دیے، زیتون کے درختوں کو نقصان پہنچایا اور نفرت انگیز پمفلٹ تقسیم کیے۔

اسی دوران اسرائیلی پولیس اس کوشش میں ہے کہ اسے ان حالیہ واقعات کے دوران ایک مسجد پر حملے سے متعلق شواہد مل جائیں۔ پولیس ترجمان کے مطابق اس حملے کیلیے مغربی کنارے میں راتوں رات 100 مظاہرین مغربی کنارے کی ایک یہودی بستی میں جمع ہو گئے تھے۔

یہودی انتہا پسند قوم پرستوں کے ان نفرت پر مبنی بے شمار اقدامات پر ایک تشویش پیدا ہو رہی ہے۔ حتی کہ اسرائیلی حکام پر بھی ان واقعات کو روکنے کیلیے دباو بڑھ رہا ہے۔ پولیس ترجمان لوبا سامری نے اس واقعے کے بارے میں کہا اس طرح کی کارروائیوں کیلیے مغربی کنارے کے شمال میں قائم یہودی بستی یتزہار شدت پسندوں کا مرکز بن چکی ہے۔