.

سوشل میڈیا: گالی اور توہین کا ذریعہ، شوہر کیخلاف مقدمہ

شوہر مجھے گائے اور گدھی کہہ کر پکارتا ہے: سعودی خاتون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں کی توہین کرنے اور دھمکیاں دینے کے بڑھتے ہوئے رجحان نے تشویش پیدا کر دی ہے۔ یہ اقدامات سائبر کرائم قواعد کے تحت جرم قرار دیے جاتے ہیں، تاہم اس جاری رجحان کو روکنے کیلیے مزید قانون سازی کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے تاکہ سوشل میڈیا پر ہونے والے ان جرائم کی بیخ کنی کے لیے سخت کارروائی ممکن ہو سکے۔

یہ بات سعودی عدالتی ذرائع نے ایک خاتون کی طرف سے اہم تجارتی و صنعتی شہر جدہ میں اپنے شوہر کے خلاف دائر کیے گئے ایک مقدمے کے حوالے سے بتائی ہے۔ جس میں خاتون نے الزام عاید کیا ہے کہ اس کا شوہر دوسروں کے سامنے اس کی توہین کرتا ہے اور اسے کبھی گائے اور کبھی گدھی کہہ کر پکارتا ہے۔ اس کی درخواست میں بعض ایسے الفاظ بھی استعمال کیے گئے ہیں جو ناقبل بیان ہیں۔ عدالتی ذرائع کے مطابق مدعا علیہ کو نوٹس جاری کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ وہ پندرہ دنوں کے اندر اندر وضاحت کرے۔

تفصیلات کے مطابق خاتون کا موقف ہے کہ اس کے شوہر نے اس کی توہین کرنا اپنی عادت بنا لی ہے۔ اس لیے عدالت اسے قرار واقعی سزا دے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق اس مقدمے کو مصالحتی کمیٹی کے سپرد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ میاں بیوی کے درمیان فاصلے کو کم کر سکے۔ اس حوالے سے ملزم شوہر کو بھی پندرہ دن کے اندر اندر طلب کیے جانے کیلیے نوٹس جاری یے جانے کا امکان ہے۔

عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ''اس طرح کے توہین آمیز سلوک اور نسل پرستانہ اظہار کے حوالے سے عدالتوں میں شکایات کا آنا بڑھ گیا ہے۔ اگرچہ عائلی سطح کے ایسے جھگڑوں کو عدالتوں سے باہر ہی طے کر لینا چاہیے کیوںکہ عدالتیں پہلے ہی کام کے زیادہ بوجھ تلے ہیں۔'' ان ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا یہ معمولی نوعیت کے مقدمات کے عدالتوں میں لائے جانے سے فریقین میں دوری دشمنی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔''

عدالتی ذرائع نے بتایا '' موبائل فونز کے ذریعے بھیجے جانے والے پیغامات، واٹس آپ اور سوشل میڈیا کے دیگر ذرائع دوسروں کی توہین کرنے، گالی دینے اور دوسروں کو دھمکی دینے میں استعمال ہو رہے ہیں۔'' اس صورتحال میں وکلاء اور ماہرین یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان جرائم کی متعین سزائیں ہونی چاہییں۔ ''

قانونی مشیر سعد المسفیر المالکی نے اس بارے میں رائے دی ہے کہ '' فوجداری مقدمات سننے والی عدالتوں میں ایسے مقدمات کی بھرمار ہے جنہیں عام طور پر معمولی جرائم سمجھا جاتا ہے، مدعیان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ معقول بنیاد کے بغیر بھی اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو عدالتی سمن بھجوانے میں کامیاب ہوں۔''

المالکی کے مطابق ایسے بہت سے الزامات سے بچا جا سکتا ہے کہ انہیں عدالتوں میں لایا جائے، بجائے اس کے دوست احباب اور رشتہ داروں کی مدد سے یہ معاملات عدالتوں میں لائے بغیر بھی نمٹائے جا سکتے ہیں۔''