.

عالمی جوہری معائنہ کار: بھاری پانی کا ایرانی ری ایکٹر زیر بحث

یورینیم سے متعلق مراکز کے معائنہ کیلیے سگہند و اردکان روانگی متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جوہری توانائی سے متعلق بین الاقوامی ادارے کا ایک وفد ایران پہنچ گیا ہے۔ بین الاقوامی معائنہ کار ایران کے عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور سے پہلے ایرانی جوہری تنصیبات کا معائنہ کریں گے۔ پیر کے روز ایران کے جوہری ادارے کے حکام سے ملاقات کے بعد یہ ٹیم یورینیم کے زیر زمین وسائل کے علاقے سگہند اور اردکان میں ''ییلوکیک پروڈکشن'' کے حوالے سے معروف جوہری تنصیبات کا معائنہ کرنے جائے گی۔

یہ دونوں اہم جوہری مراکز دارالحکومت تہران سے 450 کلو میٹر دور ہیں، لیکن باہم ایک دوسری سے متصل ہیں۔ عالمی معائنہ کاروں کا یہ دورہ اس متفقہ منصوبے کے حوالے سے ہے، جس میں سات مختلف مراحل طے کیے جائیں گے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں شفافیت کا ا مکان بڑھایا جا سکے۔ ایران کے جوہری معاملات کے بارے میں ترجمان بہروز کمال وندی نے اس بارے میں کہا ہے کہ '' پیر کو ہونے والی دوطرفہ ملاقات کا اہم موضوع بھاری پانی کا اراک ای ایکٹر رہا۔

بین الاقوامی جوہری ادارے کی طرف سے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل میسیمو آپارو معائنہ کاروں کے وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ معائنہ کاروں کے اس دورے کے بعد رواں ماہ کی پندرہ تاریخ کو سات مراحل پر مشتمل معاہدے کے مکمل ہونے کا امکان ہے۔ حتمی معاہدے کے سلسلے میں ویانا میں دو روز بعد مذاکرات شروع ہوا چاہتے ہیں۔

ان مذاکرات میں ایران کے علاوہ امریکا، روس ، چین ، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی شامل ہوں گے جن کے درمیان پچھلے سال 24 نومبر کو ابتدائی جوہری معاہدہ طے پایا تھا۔ جس کے نتیجے میں ایران کو بعض اقتصادی پابندیوں سے جزوی رعایت مل گئی تھی۔

اس سے پہلے معائنہ کاروں کی ٹیم ایران کے جوہری مرکز لشکر آباد کا معائنہ کر نے آئی تھی۔ اس ایرانی مرکز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں یورینیم کی افزودگی کی جاتی ہے۔ آپارو کی قیادت میں دورے پر آئے والے وفد کی ایران سے واپسی منگل کی رات تک متوقع ہے۔