اخوان میری صدارت میں باقی نہیں رہیں گے: سیسی

صدارتی مہم کے آغاز کے بعد سابق آرمی چیف کا پہلا انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے اہم امیدوار اور فوج کے سابق سربراہ عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے اگر وہ صدر منتخب ہو گئے تو اخوان المسلمون باقی نہیں رہے گی۔ یاد رہے اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ جسٹس اینڈ ڈیوپلمنٹ کو جنرل سیسی نے گذشتہ برس جولائی میں اقتدار سے باہر نکالا تھا۔

انتخابی مہم کے آغاز کے بعد جنرل سیسی نے مصر کے دو نجی ٹی وی چینلز 'سی بی سی' اور 'اون ٹی وی' کو مشترکہ طور پر پہلا انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ متشدد انتہا پسند اخوان المسلمون کی صفوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ اس تبصرے کے بعد انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ اس اسلام پسند گروپ کے ساتھ ان کی سیاسی مفاہمت خارج از امکان ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عبدالفتاح السیسی نے دعوی کیا کہ ابتک ان پر دو قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں۔ میں تقدیر میں یقین رکھنے والا شخص ہوں، اس لیے مجھے کوئی ڈر نہیں، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ حملے کب اور کہاں ہوئے؟

عبدالفتاح السیسی کی صدارتی انتخاب میں کامیابی، مبصرین کے بقول، نوشتہ دیوار ہے کیونکہ ان کے مدمقابل واحد صدارتی امیدوار حمدین صباحی نے 2012ء کے صدارتی انتخاب میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں فوج کا امیدوار نہیں اور نہ ہی فوج میری حمایت کر رہی ہے۔ میری کامیابی کے بعد فوج کا مصری زمام کار میں نمایاں کردار نہیں ہو گا۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس جولائی کے بعد سے مسلح جنگجووں نے سیکڑوں سیکیورٹی اہلکار اور فوجی قتل کئے ہیں۔ فوجی حمایت یافتہ عبوری حکومت نے معزول صدر کی جماعت اخوان المسلمون کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے جبکہ تنظیم کے ہزاروں حامیوں کو گرفتار اور سیکڑوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

جنرل عبدالفتاح السیسی نے مزید کہا کہ وہ صدارتی انتخاب ملک کو درپیش خطرات کے پیش نظر لڑ رہے ہیں۔ گذشتہ برس تین جولائی کو منتخب صدر مرسی کی برخاستگی اقتدار پر قبضہ جمانے کے لئے نہیں تھی۔ میں ایک مصری مسلمان ہوں جو اپنے ملک سے محبت کرتا ہے۔ میں عیسائی اور یہودیوں کے درمیان برداشت کے ماحول میں پلا بڑھا ہوں۔ میں نے لوگوں سے کبھی ان کے مذہب کے بارے میں سوال نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں