بشار الاسد، تہران کی جنگ لڑ رہا ہے: جنرل ھمدانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر جنرل حسین ھمدانی نے کہا ہے بشار الاسد ایران کی جگہ جنگ لڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران باسیج فورس کے ایک لاکھ تیس جنگجو ایران بھیجنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ان کا ملک شام میں ایک اور حزب اللہ تشکیل دینے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی 'فارس' کے مطابق جنرل ھمدان نے ان خیالات کا اظہار ھمدان گورنری کی انتظامی کمیٹی کے ایک اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ برطانوی خبر رساں ادارے ' بی بی سی' کے فارسی ایڈیشن کے مطابق پاسداران انقلاب اور تہران کے سیکیورٹی اداروں کی مقرب خاص نیوز ایجنسی 'فارس' نے حسین ھمدانی کے خطاب کر مبنی خبر جلد ہی اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دی۔

جنرل حسین ھمدانی پاسداران انقلاب میں 'محمد رسول اللہ' بریگیڈ کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے شام کی موجودہ صورتحال پر انتہائی اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دعوی کیا کہ بشار الاسد کی حکومت اپنے مخالفین کے مقابلے میں بہترین حالت میں ہے۔

ایران کے سرکردہ فوجی کمانڈر کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے شام میں نئی حزب اللہ کی بنیاد رکھ دی ہے۔ یہ حزب اللہ لبنانی کے بعد حزب اللہ ثانی ہے۔ "اللہ کی مدد سے ایرانیوں نے شام میں دوسری حزب اللہ کھڑی کر دی ہے۔"

جنرل حسین ھمدان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے انقلاب کے مقاصد کی تکمیل کے لیے شام کا دفاع کر رہا ہے۔ یہ لڑائی اپنی اہمیت کے اعتبار سے عراق اور ایران کی جنگ سے کم نہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ باسیج فورس کے تربیت یافتہ ایک لاکھ تیس ہزار جنگجو کسی بھی وقت شام بھیجے جا سکتے ہیں۔

یاد رہے ایرانی ذرائع ابلاغ نے جنرل حسین ھمدانی کی تقریر کا مذکورہ حصہ رپورٹ نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں