.

حماس نے غزہ میں اسیر فتح کے 6 قیدی رہا کر دئیے

تنظیم نے لچک کا مظاہرہ میں عباس ۔ مشعل ملاقات کے بعد کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے زیر نگین علاقے غزہ میں قائم وزارت داخلہ نے اپنی حریف سیاسی جماعت 'فتح' کے چھے قیدیوں کو جذبہ خیر سگالی کے طور پر رہا کر دیا ہے۔ اسیران فتح کی رہائی، حماس اور فتح کے درمیان حالیہ دنوں میں طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے نتیجے میں عمل میں آئی۔

رہائی فلسطینی صدر اور فتح کے رہنما محمود عباس اور حماس کے جلاوطن رہنما خالد مشعل کے درمیان دو ہفتے قبل مفاہمتی معاہدے پر دستخط کے بعد عمل میں آئی۔ دونوں رہنماوں نے گذشتہ روز بھی قطر کے دارلحکومت دوحہ میں ملاقات کی تھی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' نے فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ کے سیکیورٹی ایڈوائزر عیسی نشار کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ فلسطینی صدر اور فلسطینی اتھارٹی بھی مفاہمتی معاہدے کے حق میں مثبت ماحول بنائیں اور اس اپنے سیکیورٹی اداروں کو حماس مخالف کارروائیوں سے باز رکھیں۔ بقول عیسی نشار صدر محمود عباس کو بھی ایسے ہی اقدامات کر کے مفاہمتی معاہدے کا جواب دینا چاہئے۔

حماس کے سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ رہائی پانے والے فتح کے اسیر کارکن سکیورٹی جرائم کی پاداش میں قید تھے، جبکہ فتح کے اعلی حکام کے مطابق اب بھی حماس کی جیلوں میں ان کے چالیس کے قریب کارکن موجود ہیں۔ دوسری طرف حماس نے ان اعدا وشمار کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چالیس کے بجائے فتح کے بیس کارکن سیکورٹی جرائم کی پاداش میں پابند سلاسل ہیں۔

ادھر دوسری جانب حماس نے بھی فتح پر جوابی الزام لگایا ہے کہ مغربی کنارے میں درجنوں کے حساب سے ان کے کارکن قید ہیں۔ واضح رہے کہ فلسطین میں 2006 کے انتخاب جیتنے کے بعد حماس اور فلسطین کی دوسری بڑی جماعت فتح نے سیاسی بنیادوں پر ایک دوسرے کے بہت سے کارکنوں کو پابند سلاسل کیا تھا۔

ماضی میں دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے خلاف کافی زہر اگلا اور خونریز لڑائی لڑی جس کی پاداش میں حماس کو غزہ میں محصور کر دیا گیا اور فتح اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے کی حکمران جماعت بن گئی۔

فلسطینی جماعتوں کے مفاہمت کے پیش نظر اسرائیل نے امریکی مدد سے محمود عباس کے ساتھ اپنے تمام مذاکرات اور معاہدات کو منسوخ کر دیا، جن میں محمود عباس نے فلسطینی ریاست کو حاصل کرنے کے لئے مذاکرات کی بحالی کی امید کا اظہار کیا تھا۔