شام: صوبہ ادلب میں بم دھماکا،30 سرکاری جنگجو ہلاک

تباہ کن بم حملے کے بعد مسلح افراد کی فائرنگ اور اللہ اکبر کے نعرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں ایک تباہ کن بم دھماکے کے نتیجے میں تیس سرکاری جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حکومت مخالف باغیوں نے صوبہ ادلب کے ایک قصبے معرۃ النعمان کے نزدیک ایک چیک پوائنٹ کے نیچے سرنگ میں بم نصب کیا تھا۔اس کے پھٹنے سے زوردار دھماکا ہوا ہے۔حزب اختلاف کے حامیوں نے اس دھماکے کے بعد آن لائن ویڈیو اور تصاویر پوسٹ کی ہیں جن میں دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھےجا سکتے ہیں۔بعض افراد فائرنگ بھی کررہے ہیں اور اللہ اکبر کے نعرے بلند کررہے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ معرۃ النعمان کے نزدیک اسلامی محاذ اور انقلابی کونسل کے جنگجوؤں نے سڑک سے چیک پوائنٹ کی جانب جانے والی سرنگ میں بارود نصب کیا تھا۔واقعے میں دو شامی افسر بھی مارے گئے ہیں۔

تاہم ہلاک ہونے والے سرکاری جنگجوؤں کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ صدر بشارالاسد کی حق میں لڑنے والی کس ملیشیا سے تعلق رکھتے تھے کیونکہ شام میں اس وقت لبنان کی شیعہ جنگجو تنظیم حزب اللہ سمیت مختلف ملیشیائیں باغی جنگجوؤں کے خلاف اسدی فوج کے شانہ بشانہ جنگ میں شریک ہیں۔

آبزرویٹری کے مطابق صوبہ ادلب میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس طرح کا زوردار دھماکا کیا گیا ہے۔شام کے شمالی صوبوں ادلب اور حلب میں باغی جنگجوؤں اور شامی فوج کے درمیان خونریز لڑائی ہورہی ہے لیکن مشرقی صوبہ دیر الزور میں متحارب جہادی گروپ آپس میں باہم محاذ آراء ہیں اور ان کے درمیان گذشتہ روز جھڑپوں میں کم سے کم ستر افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

عراق کی سرحد کے نزدیک واقع دیرالزور کے قصبوں اور دیہات میں شام میں القاعدہ کی شاخ النصرۃ محاذ اور اس کی حریف دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے درمیان گذشتہ ایک ہفتے سے جاری خونریز جھڑپوں کے نتیجے میں کم سے کم ساٹھ ہزار افراد اپنا گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور لڑائی میں دونوں طرف کے مہلوکین کی تعداد ڈیڑھ سو سے بڑھ چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں