شام:متحارب جہادی دھڑوں میں لڑائی ،63 افراد ہلاک

القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ اور داعش کے درمیان دیرالزور میں خونریز جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے مشرقی صوبہ دیر الزور میں متحارب جہادی گروپوں کے درمیان جھڑپوں میں تریسٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے سوموار کو اطلاع دی ہے کہ دیرالزور میں شام میں القاعدہ کی شاخ النصرۃ محاذ اور اس کی حریف دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے درمیان تازہ جھڑپوں میں طرفین کے اٹھاون جنگجو اور پانچ عام شہری مارے گئے ہیں۔

آبزرویٹری نے مزید بتایا ہے کہ عراق کی سرحد کے نزدیک واقع شامی صوبے میں متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان گذشتہ ایک ہفتے سے جاری خونریز جھڑپوں کے بعد ساٹھ ہزار افراد اپنا گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور لڑائی میں دونوں طرف کے مہلوکین کی تعداد ڈیڑھ سو ہوگئی ہے۔

القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری نے جمعہ کو آن لائن جاری کردہ ایک آڈیو پیغام میں شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف برسرپیکار النصرۃ محاذ کو حریف جہادی گروپوں کے ساتھ لڑائی بند کرنے کا حکم دیا تھا اور اس سے کہا تھا کہ وہ شامی حکومت کے خلاف لڑائی پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔

القاعدہ کے سربراہ کی اس اپیل کے جواب میں النصرۃ محاذ نے کہا تھا کہ اگر داعش حملوں سے باز آجاتی ہے تو وہ بھی لڑائی ختم کرنے کو تیار ہے۔اس تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ ''ہم ایمن الظواہری کے احکامات کی پیروی کریں گے اور داعش پر حملے روک دیں گے لیکن ان کی جانب سے مسلمانوں پر حملہ ہوتا ہے تو پھر اس کا جواب دیا جائے گا اور داعش کے خلاف انھی علاقوں میں لڑائی کی جائے گی جہاں یہ مسلمانوں پر حملے کرے گی''۔

شام کے مختلف علاقوں میں النصرۃ محاذ کی دولت اسلامی عراق وشام سے وابستہ جنگجوؤں کے ساتھ جنوری سے شدید جھڑپیں ہورہی ہیں جن کے نتیجے میں طرفین کے کم سے کم چار ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔ان کی باہمی لڑائی سے شامی فوج کو نمایاں فائدہ ہوا ہے اور اس نے جہادیوں میں باہمی انتشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے زیر قبضہ بہت سے علاقے واپس لے لیے ہیں۔

واضح رہے کہ صدر بشارالاسد کے خلاف تین سال قبل مسلح تحریک کے آغاز کے وقت شام کے دوسرے باغی گروپوں نے عراق سے تعلق رکھنے والی جنگجو تنظیم داعش کا خیرمقدم کیا تھا لیکن اس کے جنگجوؤں نے کچھ عرصے کے بعد ہی دوسرے باغی گروپوں کے خلاف محاذ کھول لیا تھا۔

اس دوران اس نے عام شہریوں کو بھی سفاکانہ انداز میں سزائیں دینا شروع کردیں جس پر اس کے خلاف دوسری جہادی تنظیمیں اٹھ کھڑی ہوئیں اور القاعدہ نے بھی اس سے لاتعلقی ظاہر کردی تھی۔القاعدہ کے سربراہ نے داعش سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خود کو صرف عراق تک محدود رکھے لیکن اس نے یہ اپیل مسترد کردی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں