.

توہین اسلام کے مرتکب سعودی بلاگر کو دس سال قید

ایک ہزار کوڑے کھائے گا اور ایک ملین سعودی ریال جرمانہ دیگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی ایک فوجداری عدالت نے توہین اسلام کے جرم میں رائف بدوی نامی شخص کو دس سال قید اور ایک ہزار کوڑوں کی سزا سنائی ہے۔ توہین اسلام کے مرتکب شخص کو ایک ملین سعودی ریال جرمانہ بھی ادا کرنا ہو گا۔

بدوی نے اس سزا کو مسترد کیا ہے تاہم سعودی پراسیکوٹر کے مطابق اس شخص کا جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے اس لیے اس سے زیادہ سزا ملنا چاہیے۔ پراسیکیوٹر کے مطابق یہ شخص اسلام پر حملہ آوور ہوا ہے۔

واضح رہے اس سے پہلے ایک عدالت سے رائف بدوی کو رمضان میں ملنے والی سزا اپیل کورٹ نے منسوخ کر دی تھی۔ اس وقت اسے چھ سال تین ماہ قید کے علاوہ 600 کوڑے مارنے کی سزا دی گئی تھی۔ نیزعدالت نے بھی یہ حکم دیا تھا کہ توہین اسلام کا ذریعہ بننے والی ویب سائٹ بھی بند کر دی جائے۔ اپیل کورٹ نے رمضان میں سنائی گئی سزا منسوخ کرتے ہوئے مقدمہ ایک دوسری عدالت میں بھجوا دیا تھا۔

نوجوانوں کی عالمی تنظیم "وامی" کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عمر نے اس فیصلے کے بارے میں کہا'' یہ فیصلہ بنیادی طور پر ملزم کے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا ارتکاب کرنے کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ یہ حدود کسی کو بھی عبور نہیں کرنی چاہیں۔''

واضح رہے بدوی سعودی عرب میں اپنی ویب سائٹ پر اسلام کے بارے میں نازیبا انداز اختیار کرنے کے حوالے سے مشہور ہے۔ وامی کے ذمہ دار نے اس سزا پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا'' ان تنظیموں کا معیار دوہرا ہے، شام اور برما سمیت مختلف ممالک میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے انہوں نے انکھیں بند کر رکھی ہیں۔ ''

دوسری جانب سعودی بلاگرز نے اس عدالتی فیصلے کی تائید کی ہے اور کہا ہے کہ اسے اس سے بھی سخت سزا ملننی چاہیے تھی۔ بندر نامی ایک بلاگر نے کہا بدوی کو اس کے جرم کے مقابلے میں کم سزا دی گئی ہے۔ ''

ایک اور بلاگر نے کہا '' اس سزا کے ملنے سے بدوی کو اپنے انداز کو بدلنے پر غور کا موقع ملے گا اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کا بھی موقع ملے گا۔'' ایک اور سعودی بلاگر نے کہا '' ہمیں بداوی کی ہدایت کیلیے دعا کرنی چاہیے ، اللہ اسے سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔''