.

شام میں جاری لڑائی میں دو اور برطانوی ہلاک

دونوں داعش کی جانب سے النصرۃ محاذ کے خلاف لڑرہے تھے:رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جاری لڑائی میں دو اور برطانوی شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔برطانیہ نے اس اطلاع کی تصدیق کے لیے تحقیقات شروع کردی ہے۔

ان دونوں برطانوی شہریوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق اور شام (داعش) کی جانب سے لڑرہے تھے اور اس گروپ کی القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرۃ محاذ کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے ہیں۔

برطانوی دفتر خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم ان رپورٹس سے آگاہ ہیں اور ان کا جائزہ لے رہے ہیں''۔گذشتہ ماہ ایک اٹھارہ سالہ برطانوی نوجوان عبداللہ دغیس شام میں جاری لڑائی میں مارا گیا تھا۔اس کے والد نے تب بتایا تھا کہ اس کے دو اور بیٹے بھی شام میں جاری خانہ جنگی میں شریک ہیں۔

برطانوی حکام کے مطابق گذشتہ دوسال کے عرصے میں قریباً چار سو برطانوی مسلمان شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف جنگ میں حصہ لینے گئے ہیں اور ان میں سے کم سے کم بیس مارے جاچکے ہیں۔

واضح رہے کہ برطانوی پولیس افسروں کی تنظیم کے سربراہ پیٹر فاہی نے چند ہفتے قبل خبردار کیا تھا کہ شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف محاذ آراء باغیوں کی مدد کو جانے والے برطانوی شہریوں کو وطن واپسی پر گرفتار کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ ملک کے لیے سکیورٹی خطرے کا موجب ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے برطانوی شہریوں کے شام میں جہاد کے لیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔لیکن ان کے اس انتباہ اور تشویش کے باوجود برطانیہ مسلم نوجوان شام کا رخ کررہے ہِیں اور وہ وہاں القاعدہ سے وابستہ تنظیموں یا دوسرے جنگجو گروپوں میں شامل ہوکر شامی فوج کے خلاف برسر جنگ ہیں۔