.

غزہ: دو اسرائیلی جاسوسوں کو پھانسی دے دی گئی

سات برسوں میں دس جاسوسوں کو سزائے موت دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی تنظیم حماس کے زیر اتظام علاقے غزہ میں اسرائیل کیلیے جاسوسی کے الزام میں دو فلسطینیوں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ ان دونوں کے خلاف یہ ثابت ہو گیا تھا کہ انہوں نے غزہ میں خوفناک اسرائیلی آپریشن ممکن بنانے کیلیے اسرائیل کو معلومات دیں اور تعاون کیا تھا۔

ان دونوں جاسوسوں میں سے ایک کو پھانسی دی گئی ہے جبکہ دوسرے کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔ واضح رہے 2007 سے اب تک مجموعی طور پر 19 قیدیوں کو سزائے موت دی گئی ہے ، جن میں دس جاسوس تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں ان سزاوں کی مذمت کرتی رہی ہیں لیکن حماس اس تنقید کو مسترد کرتی ہے۔

حماس ایسی فلسطینی جماعت ہے جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی ہے اور آزادی فلسطین کیلیے مزاحمت پر یقین رکھتی ہے۔ مقامی قانون کے مطابق کسی فرد کو پھانسی دینے کیلیے فلسطینی اتھارٹی کے صدر کی منظوری ضروری ہے لیکن حماس اس سلسلے میں مشاورت نہیں کرتی ہے۔ اب دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان معاہدہ مفاہمت کے بعد مخلوط حکومت کی صورت میں مشاورت کا امکان زیادہ ہے۔

غزہ میں وزیر داخلہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں افراد نے غداری کا ارتکاب کیا تھا ، ان کی دی گئی اطلاعات پر اسرائیل کو غزہ میں بمباری کرکے متعدد کو شہید کرنے کا موقع ملا تھا، ان دونوں کو قانون کے مطابق موت کی سزا دی گئی ہے۔