مصر: السیسی کے انتخابی اخراجات پر سوال اٹھنے لگا

کیوں نہیں پوچھا جاتا کہ فنڈز کون دے رہا ہے: حمدین صباحی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصری صدارت کے امیدوار اور اس دوڑ میں سابق فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے واحد مد مقابل حمدین صباحی نے انتخابی مہم میں السیسی کی طرف سے کیے جانے والے اخراجات کو چیلنج کرتے ہوئَے کہا ہے کہ '' سیسی کی مہم کیلیے فنڈنگ کہاں سے ہو رہی ہے اس پر سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔

صباحی نے یہ ریمارکس ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران دیے ہیں۔ چند روز پہلے ایسا ہی ایک ٹی وی انٹروی عبدالفتاح السیسی نے بھی دیا تھا۔ انٹرویو کے دوران جب صباحی سے ان کی انتخابی مہم کیلیے فراہم ہونے والے وسائل کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا '' یہ سوال میرے مدمقابل سے کیوں نہیں پوچھا جاتا ہے، اس کے اکاونٹ نمبرز کیا ہیں اور انتخابی مہم کیلیے وسائل کون دے رہا ہے۔''

واضح رہے امریکا میں مشرق وسطی کے امور کو مانیٹر کرنے والی ویب سائٹ نے السیسی کے مقابلے میں صباحی کی انتخابی مہم کو وسائل کے اعتبار سے کمزور قرار دیا ہے۔ جبکہ السیسی کی مہم کیلیے وسائل کی فراوانی ہے۔

مصر میں نئے بنائے گئے انتخابی قوانین کے مطابق ایک امیدوار ایک اعشاریہ بیالیس ملین ڈالر سے دو اعشاریہ چوراسی ملین ڈالر تک خرچ کر سکتا ہے۔ امیدواروں پر یہ بھی قدغن ہے کہ وہ غیر ملکی سرمائے استعمال نہیں کر سکیں گے۔ اس سلسے میں غیر ملکی شخصیات اور ادراوں میں سے کسی سے بھی مدد نہیں لی جا سکتی ہے۔

حمدین صباحی نے جمہوریت کا دفاع کرتے ہوئے کہا '' جمہوریت کے بغیر وہی پرانی کہانیاں دہرائی جائیں گی جو ہم اس سے پہلے سینکڑوں مرتبہ دیکھ چکے ہیں۔'' انہوں نے اپنے مد مقابل کے بارے میں کہا سیسی مرسی حکومت کا حصہ رہے ہیں۔ خیال رہے صباحی نے مرسی کے مقابلے 2012 کے انتخاب میں تیسری پوزیش حاصل کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں