سعودی خواتین کی مردوں کے مخصوص پیشوں میں آمد

سیاحت ہوٹلنگ اور پراپرٹی کے میدان میں بھی خواتین کی دلچسپی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں بہت ساری سعودی خواتین اب ان پروفیشنز میں آ رہی ہیں جو ماضی میں صرف مردوں کے لیے مخصوص سمجھے جاتے تھے۔ سعودی خواتین نے کاغذات اور دستاویزات کی تیاری کے شعبے میں بھی قدم رکھنا شروع کر دیے ہیں۔

یہ خواتین بھی اب مردوں کی طرح مختلف محکموں سے رجوع کرنے والے سائلین کو درخواستیں اور دوسری دستاویزات تیار کر کے ان سائلین کے ایجنٹ کے طور پر کام کریں گی۔ مقابلتا خواتین کیلیے یہ نیا شعبہ ہے تاہم یہ اس امر کا مظہر ہے کہ سعودی عرب میں معاشی اور سماجی سطح پر تبدیلی کا ماحول ہے۔

ایک خاتون ماہر معیشت ریم اسد نے کہا ''وزارت محنت کیلیے ممکن نہیں ہوگا کہ وہ خواتین میں بے روزگاری کی سطح کم کر سکے الا یہ کہ خواتین کیلیے نئے شعبوں کی دریافت ممکن بنائی جائے۔'' اس خاتون ماہر معیشت کا یہ بھی کہنا تھا'' اب صرف وقت بتائے گا کہ سعودی خواتین اپنے آپ کو کس طرح ان شعبوں میں کامیاب ثابت کرتی ہیں، اس سلسلے میں میری میڈیا سے اپیل ہے کہ خواتین کی مدد کرے۔''

ریم اسد نے مزید کہا ' ہماری خواتین سیاحت، ترجمانی ، ہوٹلنگ اور دوسرے کئی شعبوں میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور وہ ان پیشوں کیلیے اجنبی ہیں نہ یہ پیشے ان کیلیے اجنبی ہیں۔''

شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی کی استاد نعیمہ کا کہنا ہے '' رابطہ کاری کے شعبے میں خواتین کیلیے ابھی مشکلات ہو سکتی ہیں کہ بہت سے حکومتی اداروں نے خواتین کیلیے مخصوص نہیں کیے ہیں ۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں