شامی خفیہ والے زَن و زَر کے رسیا ہیں: حسن نصر اللہ

وکی لیکس کے ذریعے منکشف خفیہ مراسلے میں انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی سفارت کاری کی سربستہ رازوں کو منکشف کر کے دنیا بھر میں تہلکہ مچانے والی ویب سائٹ "وکی لیکس" نے ایک برقی مراسلہ مشتہر کیا ہے جس میں حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری الشیخ حسن نصراللہ کا بیان نقل کیا گیا ہے جس میں لبنانی شیعہ ملیشیا کے سربراہ نے شامی صدر بشار الاسد کے انٹیلی جنس حکام کو "اخلاق سے عاری" اور "دولت و عورت کا رسیا" قرار دیا تھا۔

"وکی لیکس" کے مطابق یہ خفیہ مراسلہ چار دسمبر 2006ء کو بیروت میں امریکی سفارت خانے کو بھیجا گیا، جس میں بتایا گیا کہ سابق لبنانی صدر امین الجمیل نے تین دسمبر 2006ء کو الشیخ حسن نصراللہ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں حسن نصرا للہ نے وزیر اعظم فواد السنیورہ، رکن پارلیمنٹ سعد الحریری اور لبنان میں متعین امریکی سفیر جیفری ویلٹمن کے خلاف بھرپور نفرت کا اظہار کیا۔

وکی لیکس نے الشیخ حسن نصراللہ سے متعلق خفیہ مراسلے کو دس نکات میں تقسیم کیا ہے۔ "شامیوں کی خامیوں پر تشویش" کے عنوان سے جاری مراسلے میں بتایا گیا لبنان کے سابق صدر حسن نصراللہ کی گفتگو سن کر حیران رہ گئے جب انہوں نے کہا کہ شامی انٹیلی جنس حکام کو اخلاقیات سے عاری اور زن و زر کے رسیا ہیں۔ حسن نصراللہ نے شامی صدر بشار الاسد کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنے مشیروں کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کریں لیکن ان کا مشورہ نہیں مانا گیا۔

حسن نصراللہ نے امین الجمیل سے کہا کہ لبنان کا مفاد شام کے علوی قبیلے کے اقتدار کے قائم رہنے میں پوشیدہ ہے۔ اگر شام میں حکومت علوی قبیلے کے ہاتھ سے چھن جاتی ہے تو دمشق سلفیوں کے ہاتھ میں جا سکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حیران کن بات یہ ہے کہ شام میں سلفیوں کے خطرہ کا اشارہ حسن نصراللہ کی جانب سے انقلاب سے کئی سال قبل دے دیا تھا۔ انہوں نے نہ صرف سلفیوں سے درپیش خطرہ بھانپ لیا تھا بلکہ علوی قبیلے کے اقتدار کو قائم رکھنے پر بھی زور دیا تھا۔ آج حسن نصراللہ بشارالاسد کے "اخلاق سے عاری" انہی انٹیلی جنس حکام کی حمایت کر رہے ہیں جو ان کے بہ قول "عورت اور پیسے کے پیچھے ہانپے جا رہے تھے۔"

خیال رہے کی اسی نوعیت کی کچھ خفیہ دستاویزات حزب اللہ کے قریب سمجھے جانے والے لبنانی روزنامہ "الاخبار" نے بھی شائع کی تھیں۔ ان میں شام کے بحران کے بارے میں لبنانی حکومت میں تناؤ، شام سے تعلقات، حزب اللہ کی شام میں مداخلت اور رفیق حریری قتل کیس سے متعلق اہم معلومات بھی شامل تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں