شام: عسکری تصادم، ایک لاکھ شہریوں کی نقل مکانی

حلب میں النصرہ فرنٹ نے حکومتی علاقوں کا پانی کاٹ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں آتشیں خانہ جنگی کی وجہ سے ایک لاکھ سے زیادہ شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ یہ بات انسانی حقوق کے حوالے سے قائم ابزرویٹری نے ہفتے کے روز بتائی گئی ہے۔

لندن میں قائم کی گئی اس آبزرویٹری کا یہ بھی کہنا ہے کہ القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ اور اس کی حریف داعش کے درمیان ہونے والے تصادم کے دوان صرف دس دنوں میں 230 عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔ ان میں 146 النصرہ فرنٹ اور دوسرے اسلام پسند گروپوں سے وابستہ تھے۔

واضح رہے تیل سے مالا مال اس صوبے میں دونوں گروپوں کے درمیان یہ تصادم ماہ اپریل میں شروع ہوا ہے ۔ داعش نے جنوری سے ہی سرگرمیاں شروع کر رکھی تھیں۔ داعش جو کہ بنیادی طور پر القاعدہ کی عراقی شاخ کے طور پر سامنے آئی تھی اعتدال پسند باغیوں کے ساتھ ساتھ النصرہ فرنٹ کا بھی ہدف ہے۔

اس مشترکہ ہدف ہونے کی وجہ سے اسے شام میں حلب اور ادلب کے صوبوں کے بڑے حصے سے نکلنا پڑا ہے۔ تاہم اس نے صوبہ راقا کے دارالحکومت میں اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے۔ عراق اور شام کو ایک اسلامی مملکت بنانے کیلیے کوشاں داعش کا شروع میں شامی باغیوں نے خیر مقدم کیا تھا۔ لیکن اس کی طرف سے شہریوں کے ساتھ سختی کے باعث اس کے خلاف ردعمل شروع ہو گیا ۔

دریں اثناء شام کے دوسرے اہم شہر حلب میں شہری پانی سے محروم ہو گئے ہیں کیونکہ عسکریت پسندوں نے بشار رجیم اور باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو پانی کی ترسیل کاٹ دی ہے ۔ پچھلے ماہ باغیوں نے بشار رجیم کے زیر قبضہ علاقے کی بجلی منقطع کر دی تھی آبزر ویٹری کے مطابق یہ پانی النصرہ فرنٹ نے بند کیا ہے۔ واضح رہے حلب کئی حصوں میں بٹا ہوا شہر بن چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں