امریکا کی جاسوسی نہیں کی: اسرائیل کی تردید

'الزامات دو طرفہ تعلقات خراب کرنے کی سازش ہیں'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی حکومت نے امریکا میں کسی قسم کی جاسوسی سے متعلق سرگرمیوں کی سختی سے باقاعدہ تردید کرتے ہوئے اس حوالے سے سامنے آنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر برائے اسٹریٹیجک امور یووال شٹائنٹر نے امریکی جریدے "نیوز ویک" میں شائع اس رپورٹ کو 'من گھڑت' قرار دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تل ابیب، امریکا کے کئی شعبوں کی جاسوسی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے تمام الزامات قطعی بے بنیاد ہیں، جن کا مقصد دونوں 'دوست ملکوں' کے باہمی تعلقات خراب کرنا ہے۔

اسرائیلی فوجی ریڈیو اور ٹیلی ویژن ون کے مطابق مسٹر یووال نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ تل ابیب پر امریکا کی جاسوسی کے الزامات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کوئی خفیہ ہاتھ امریکا اور اسرائیل کے درمیان انٹیلی جنس کے شعبے میں جاری تعاون کو ختم کرنے کی سازش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس حکام اور سیاسی رہ نماؤں سے میری کئی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں لیکن انہوں نے کبھی اس طرح کی کوئی شکایت نہیں کی۔ ہم صرف ذرائع ابلاغ سے یہ سن رہے ہیں کہ اسرائیل، امریکا کی جاسوسی میں ملوث ہے۔

خیال رہے کہ امریکی جریدے "نیوز ویک" نے اپنی حالیہ اشاعت میں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل امریکا کی کسی بھی دوسرے اتحادی ملک سے زیادہ جاسوسی کر رہا ہے اور جاسوسی سرگرمیوں کا معاملہ تشویشناک حدوں کو چھو رہا ہے.

رپورٹ کے مطابق امریکا کے ساتھ قربت رکھنے والا کوئی دوسرا ملک ایسا نہیں جو جاسوسی کے حوالے سے امریکی حدود کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہو، سنہ 2013 کے اواخر میں ایک حساس نوعیت کی بریفنگ میں شرکت کرنے والے ایک ذمہ دار کے مطابق یہ بات ملک کی داخلی سلامتی سے متعلق محکمے، ایف بی آئی اور کاونٹر انٹیلی جنس سے متعلق مشترکہ اداروں کے حوالے سے بتائی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق امریکا کے صنعتی اور تکنیکی رازوں تک رسائی حاصل کرنا اسرائیلی جاسوسی کے اصل اہداف تھے۔ اس ضمن میں اسرائیلی جاسوس یہ جانچنے کی کوشش کرتے رہے کہ امریکا میں امیگریشن ویزوں کے اجراء سے متعلق نئی قانون سازی کیا ہو رہی ہے اور اس کے اثرات اسرائیلی شہریوں پر کیا ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں