.

شام:صدارتی انتخابات کے لیے مہم کا باقاعدہ آغاز

دستوری عدالت عظمیٰ کی بشارالاسد سمیت تین امیدواروں کو انتخابی مہم کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں تین جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے آج اتوار سے باضابطہ طور پر مہم شروع ہوگئی ہے۔

شام کے سرکاری خبررساں ادارے سانا کی اطلاع کے مطابق دستوری عدالت عظمیٰ نے صدر بشارالاسد اور ان کے مدمقابل دو امیدواروں ماہر عبدالحفیظ حجار اور حسن عبداللہ النوری کو اپنی اپنی انتخابی مہم شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

صدارتی انتخابات کے لیے کل چوبیس امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے لیکن ان میں سے زیادہ تر امیدوار انتخاب لڑنے کے لیے وضع کردہ معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہے تھے اور دستوری عدالت عظمیٰ نے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے تھے۔بعد میں ان کی جانب سے دائر کردہ اپیلیں بھی مسترد کردی گئی ہیں۔

شام میں عملی طور پر گذشتہ پچاس سال میں یہ پہلے صدارتی انتخابات ہوں گے جن میں ایک سے زیادہ امیدوار حصہ لے رہے ہیں کیونکہ اس سے پہلے بشارالاسد اور ان کے والد حافظ الاسد ریفرینڈم نما انتخاب میں صدر بنتے رہے تھے۔بشارالاسد کے بارے میں توقع یہی ہے کہ وہ بآسانی جیت جائیں گے۔وہ 2000ء میں اپنے والد حافظ الاسد کے انتقال کے بعد سے ملک کے صدر چلے آرہے ہیں۔

ان کے مدمقابل حسن عبداللہ النوری امریکا سے تعلیم یافتہ ہیں۔وہ ایک کاروباری شخصیت ہیں اور شامی حکومت کے لیے قابل قبول حزب اختلاف کا حصہ ہیں۔ ماہر عبدالحفیظ الحجار شمالی شہر حلب سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ وہاں سے آزاد حیثیت میں رکن پارلیمان منتخب ہوئے تھے لیکن یہ دونوں امیدوار شامی عوام کے لیے کوئی زیادہ جانے پہچانے چہرے نہیں ہیں۔

شام میں گذشتہ تین سال سے زیادہ عرصے سے جاری خانہ جنگی کے پیش نظر صرف حکومت کی عمل داری والے علاقوں ہی میں پولنگ ہوگی لیکن جنگ کے ماحول میں ہونے والی پولنگ کی اعتباریت اور ساکھ کے حوالے سے ابھی سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

شامی حزب اختلاف نے ان انتخابات کو ڈھونگ قراردے کر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ عالمی برادری ان کے نتائج کو تسلیم نہیں کرے گی۔حزب اختلاف نے حکومت کے ساتھ مزید بات چیت اور تین سال سے جاری بحران کے حل کے لیے کسی حتمی معاہدے سے قبل بشارالاسد کی رخصتی کی شرط عاید کررکھی ہے۔

امریکا نے دمشق حکومت کی جانب سے انتخابات کے انعقاد کے فیصلے کو شام میں جمہوری انتقال اقتدار کے لیے طے پائے جنیوا اعلامیے کی روح کے منافی قرار دیا ہے۔اقوام متحدہ اور عرب لیگ بھی ان انتخابات کو مسترد کرچکی ہیں۔

واضح رہے کہ مارچ 2011ء سے شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہِیں۔ملک کی قریباً نصف آبادی اندرون اور بیرون ملک مہاجر کیمپوں میں زندگی کے دن کاٹ رہی ہے۔ان میں پچیس لاکھ اپنا گھربار چھوڑ کر بیرون ملک مہاجر کیمپوں میں مقیم ہیں اور ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو شامی سکیورٹی فورسز کی چیرہ دستیوں سے بچنے کے لیے پڑوسی ممالک میں چلے گئے ہیں۔