.

کیمیائی حملوں سے شامی بچوں میں پیدائشی نقائص میں اضافہ

اسپتالوں میں معذور نو مولودوں کے متعدد کیس سامنے آنے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی حامی فورسز کی جانب سے باغیوں کے خلاف مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں کے نہایت تباہ کن اثرات سامنے آئے ہیں اور ان حملوں سے متاثرہ مائیں مافوق الفطرت اور اپاہج بچے جنم دینے لگی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ادلب کے باب الھویٰ اسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جود نامی ایک بچی جو اب چار ماہ کی ہو چکی ہے جسمانی طور پر مکمل طور پر معذور ہے۔ اس کی معذوری کی بنیادی وجہ اس کی ماں کا کیمیائی حملے کے نتیجے میں متاثر ہونا بتایا جاتا ہے۔ بچی کی والدہ گذشتہ برس مئی میں حمص میں صدر بشارالاسد کی فوج کی طرف سے کیے گئے ایک کیمیائی حملے سے زخمی ہوئی تھی، تب وہ دو ماہ کی حاملہ تھی۔ کیمیائی گیس کے مضر اثرات نے اس کے رحم میں موجود بچی کو بھی اپاہج بنا دیا ہے۔

بچی کی نگہداشت پر مامور ڈاکٹر نے بتایا کہ شیر خوار کی معذوری کی بنیادی وجہ اس کی والدہ کا کیمیائی حملے سے متاثر ہونا ثابت ہو گیا ہے۔ کیمیائی حملے سے متاثر ہونے کے باوجود خاتون کا حمل برقرار رہا لیکن پیدا ہونے والی بچی کی بائیں ٹانگ اور دائیں ہاتھ کی ایک انگلی کٹی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور بایاں پاؤں مکمل طور پر ٹیڑھا ہے جس کی انگلیوں کی پور غائب ہیں۔

خیال رہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کے لیے اکتوبر 2012ء میں ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن بھی قائم کیا گیا تھا، جس نے ملک بھر میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ان گنت شواہد اکھٹے کیے تھے۔

برسلز میں قائم اس تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے گذشتہ جمعہ کو جاری ایک رپورٹ میں ادلب کی اپاہج شیر خوار بچی کو بھی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں اس نوعیت کے کئی دوسرے کیسز کا بھی حوالہ شامل ہے جس میں دمشق کے قریب پیدا ہونے والی ایک بچی کا احوال بھی شامل ہے جس کی والدہ گذشتہ برس اگست میں کیمیائی ہتھیاروں سے کیے گئے ایک حملے میں زخمی ہوئی تھیں۔

تحقیقاتی کمیشن کے تعلقات عامہ کے نگران نضال شیخانی نے بتایا کہ کیمیائی حملوں سے متاثرہ ایک خاتون نے دوما شہر میں ایک بچی کو جنم دیا۔ فاطمہ عبدالغفار نامی اس بچی کا چہرہ مکمل طور پر مسخ تھا اور وہ مشکل سے سانس لے رہی تھی تاہم اب یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا وہ بچی زندہ ہے یا انتقال کر گئی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس کے اوائل میں شام کی سرکاری فوج نے دمشق کے قریب مشرقی الغوطہ کے مقام پر عام شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے ذریعے بدترین حملہ کیا جس کے نتیجے میں کم سے کم 1400 عام شہری جاں بحق اور 10 ہزار زخمی ہو گئے تھے۔ متاثرین میں اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل تھی۔