.

اسرائیل نے شام سے متصل گولان کا علاقہ بند کردیا

سکیورٹی خدشات کے پیش نظر قنیطرہ بارڈر کراسنگ کو بند فوجی علاقہ قرار دے دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے اپنے زیر قبضہ گولان کی چوٹیوں کے ایک علاقے کو شام میں جاری خانہ جنگی کے پیش نظر بند فوجی علاقہ قراردے دیا ہے۔

اسرائیلی فوج کی ایک خاتون ترجمان نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ قنیطرہ بارڈر کراسنگ کے نزدیک واقع علاقے کو سکیورٹی وجوہ کی بنا پر بند کردیا گیا ہے۔صہیونی سکیورٹی ذرائع کے مطابق انھیں خطرہ ہے کہ شامی فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی اس علاقے تک بھی پھیل سکتی ہے۔

اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی چوٹیوں سے متصل شام کے جنوبی علاقے قنیطرہ میں اس سال کے آغاز میں باغی جنگجوؤں نے جنوبی محاذ تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔اس میں شامی فوج کے خلاف محاذ آراء پچپن مزاحمتی گروپوں کے قریباً تیس ہزار جنگجو شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل 1969ء کی چھے روزہ جنگ کے بعد سے شام کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔اس جنگ میں اسرائیل نے شام کے گولان کی پہاڑیوں کے بارہ سو مربع کلومیٹر علاقے کو ہتھیا لیا تھا اور بعد میں اس علاقے کو صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا لیکن اس کی قبضے کی اس کارروائی کوعالمی برادری تسلیم نہیں کرتی ہے۔

مارچ میں گولان پر ایک بم حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے شام کے علاقے میں ایک فضائی حملہ کیا تھا۔اس بم دھماکے میں چار فوجی زخمی ہوگئے تھے۔شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے بعد سے متعدد مرتبہ گولان کے پہاڑی میں راکٹ گرے ہیں اور اس کے ردعمل میں صہیونی فوج نے شام کی جانب گولہ باری کی ہے یا فضائی حملے کیے ہیں۔