.

احمد الجربا امریکا کے ساتھ تزویراتی تعلقات کے خواہش مند

شام میں نو فلائی زون کے لیے امریکی قیادت سے بات کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی متحدہ اپوزیشن کے سربراہ احمد الجربا نے امریکی صدر اوباما سے اپنی متوقع ملاقات کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ امریکا سے سٹریٹجک تعلقات کے خواہاں ہوں گے تاکہ شام کی فضائی حدود کو '' نو فضائی زون '' قرار دے کر شہریوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔

احمد الجربا نے اس امر کا اظہار '' العربیہ '' کے ساتھ انٹرویو میں کیا ہے۔ جب احمد الجربا سے پوچھا گیا کیا وہ شام میں نو فلائی زون قائم کرنے کو ترجیح دیں گے، جس میں باغیوں کو طیارہ شکن میزائل سے لیس کیا جائے؟ تو ان کا جواب تھا'' جہاں تک نو فلائی زون بنانے کا تعلق ہے میں یہ کہوں گا کہ شامی رجیم نے بار بار مختلف شہروں پر بمباری کی ہے تاکہ باغیوں کے مضبوط مراکز کو نشانہ بنا سکے۔''

ان کا کہنا تھا '' بشار رجیم نے جدید ترین اسلحہ اور گولہ بارود سے شہری آبادیوں میں تباہی پھیلائی ہے، اس لیے اس کا توڑ نو فلائی زون سے کیا جا سکتا ہے۔'' واضح رہے احمد الجربا پچھلے ہفتے امریکا پہنچے ہیں، جہاں ان کی امریکی صدر براک اوباما کے علاوہ وزیر خارجہ جان کیری اور دوسرے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں متوقع ہے۔

ان کے اس دورے کے موقع پر ہی امریکا نے شام کی متحدہ اپوزیشن کو اس کے ایک فارن مشن کے قیام کے ساتھ قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ الجربا نے امریکا کی طرف سے متحدہ اپوزیشن کو یہ درجہ دینے پر کہا ''یہ فیصلہ بشار رجیم کے لیے ایک بڑے سفارتی دھچکے سے کم نہیں ہے۔''

اس سے پہلے عرب لیگ بھی بشار رجیم کو رکنیت سے محروم کر کے متحدہ اپوزیشن کو مبصر کے طور پر قبول کر چکی ہے، جبکہ شامی اپوزیشن کو تنظیم کی مکمل رکنیت دینے کے لیے پراسس جاری ہے۔ شام میں چوتھے سال میں داخل خانہ جنگی کی وجہ سے اب تک ایک لاکھ پچاس ہزار ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور اس وجہ سے پڑوسی ممالک میں پناہ لینے والے شامی شہریوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

بشار رجیم ٹھیک بیس دن بعد نئے صدارتی انتخابات کرانے جارہی ہے۔اس سلسلے میں شام میں باضاطہ انتخابی مہم ایک روز پہلے شروع ہوئی ہے اور بشارالاسد ایک مرتبہ پھر مضبوط صدارتی امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں۔