.

امریکی ڈرون پر قبضے کے بعد ایرانی ڈرون بھی تیار

ڈرون جاسوسی کے مقاصد کیلیے ہیں، خامنہ ای کی نمائش پر گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے دعوی کیا ہے کہ اس نے ایک امریکی ڈرون طیارے کو دسمبر 2011 میں کامیابی سے اتار لیا تھا۔ ایرانی سرکاری ٹی وی نے اس' یو ایس آر کیو 170 '' امریکی ڈرون کی فوٹیج ایسے موقع پر آن ائیر کی ہے جب امریکی ڈرون حملوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف ایک اعلی سطح کے وفد کے ساتھ ایران میں موجود تھے۔

ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکی ڈرون کو دوران پرواز قبضے میں لیا گیا تھا۔ بظاہر یہ امریکی ڈرون ایرانی جوہری تنصیبات کی جاسوسی ایرانی کیلیے فضا میں موجود تھا کہ اسے سکیورٹی حکام نے اسے قبضے میں لے لیا۔ بعد ازاں ایرانی انجینئیروں نے ڈرون کے تکنیکی راز بھی اڑا لیے۔ حکام کے حوالے سے ٹی وی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جلد اس ڈرون کی مدد سے ایران تجرباتی بنیادوں پر اپنے ڈرون کی پرواز ممکن بنائے گا۔

ایرانی میڈیا نے یہ انکشاف ایرانی رہبر آیت اللہ خامنہ ای کے جدید اسلحہ ٹیکنالوجی کی ایک نمائش میں شرکت کے بعد کیا ہے۔ نمائش کا اہتمام ایرانی پاسداران انقلاب کی دفاعی شعبے میں کی گئی ترقی کے حوالے سے کیا گیا تھا۔ اس نمائش میں بلیسٹک میزائلوں کی تیاری بطور خاص شامل تھی۔

ایرانی رہبر نے امریکی ڈرونز کی تیار شدہ اس نقل کے حوالے سے کہا ایرانی ڈرونز کو جاسوسی کے مقاصد کیلیے بنایا گیا ہے دوسری جانب امریکا نے اعتراف کیا ہے کہ اس ڈرون پر اس کے آپریٹرز کا کنٹرول باقی نہیں رہا تھا۔ واضح رہے اس موقع پر امریکی حکام نے اس واقعے کو کم اہم ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ ایران کے بارے میں پہلے سے اطلاعات ہیں کہ ایران اپنے ڈرونز کی تیاری کیلیے کوشاں ہے۔