.

''آ اونٹ مجھے مار''، سعودی کسان اونٹوں کی محبت کے اسیر

مرس اونٹوں سے نہیں، سعودی کسانوں کا وزارت صحت کو چیلنج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اپنے پالتو جانوروں سے محبت کا معاملہ پہلے یورپ میں حد سے بڑھا ہونے کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا کے ذریے سامنے آتی رہیں کہ گورے اور گوریاں آخری حد تک اپنے پالتو کتوں کی محبت میں گرفتار ہیں لیکن اب عرب دنیا سے اپنے پالتوں جانور اور قدیمی ساتھی اونٹ سے محبت کی تصاویر ایسے موقع پر سامنے آنے لگی ہیں جب سعودی وزارت صحت نے مرس کے وبائی مرض سے بچنے کیلیے اونٹوں سے دور رہنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔

واضح رہے دو دن پہلے سعودی عرب میں مرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود 139 کے ہندسے کو چھو گئی ہے اور مرس زدہ مریضوں کی تعداد 480 ہو چکی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ایک سعودی شہری نے سوشل مڈیا پر اپنی ایک ایسی ویڈیو اپ لوڈ کی ہے جس میں وہ اپنی اونٹنی کو چوم رہا ہے اور اس کی اونٹنی اسے چوم رہی ہے ، نیز وہ اونٹنی سے بغلگیر ہے۔ ایسی محبت کا صاف مطلب ہے کہ'' آ اونٹ مجھے مار۔''

دوسری جانب جرائیوی القہانی نامی ایک کسان نے سعودی وزارت صحت کو چیلنج کیا ہے کہ مرس کا ایسا ایک بھی کیس سامنے لایا جائے جس کا سبب اونٹ یا اونٹنی بنی ہو۔ دیگر کسانوں نے بھی اونٹوں سے دور رہنے کے وزارت صحت کے مشورے کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کسانوں کا کہنا ہے ہم کئی دہائیوں سے اونٹوں کے ساتھ رہ رہے ہیں اج تک ایسا مسئلہ نہیں ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کی صحت کے شعبے سے متعلق ٹیمیں متعدد مرتبہ سعودی حکام سے مل چکی ہیں جبکہ اونٹوں کی محبت کے ذریعے'' خود کش کارروائی'' کے حامی سعودی کسان ہیں کہ اونٹوں سے اپنی محبت سے باز آنے والے ہر گز نہیں ہیں۔