''آ اونٹ مجھے مار''، سعودی کسان اونٹوں کی محبت کے اسیر

مرس اونٹوں سے نہیں، سعودی کسانوں کا وزارت صحت کو چیلنج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اپنے پالتو جانوروں سے محبت کا معاملہ پہلے یورپ میں حد سے بڑھا ہونے کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا کے ذریے سامنے آتی رہیں کہ گورے اور گوریاں آخری حد تک اپنے پالتو کتوں کی محبت میں گرفتار ہیں لیکن اب عرب دنیا سے اپنے پالتوں جانور اور قدیمی ساتھی اونٹ سے محبت کی تصاویر ایسے موقع پر سامنے آنے لگی ہیں جب سعودی وزارت صحت نے مرس کے وبائی مرض سے بچنے کیلیے اونٹوں سے دور رہنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔

واضح رہے دو دن پہلے سعودی عرب میں مرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود 139 کے ہندسے کو چھو گئی ہے اور مرس زدہ مریضوں کی تعداد 480 ہو چکی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ایک سعودی شہری نے سوشل مڈیا پر اپنی ایک ایسی ویڈیو اپ لوڈ کی ہے جس میں وہ اپنی اونٹنی کو چوم رہا ہے اور اس کی اونٹنی اسے چوم رہی ہے ، نیز وہ اونٹنی سے بغلگیر ہے۔ ایسی محبت کا صاف مطلب ہے کہ'' آ اونٹ مجھے مار۔''

دوسری جانب جرائیوی القہانی نامی ایک کسان نے سعودی وزارت صحت کو چیلنج کیا ہے کہ مرس کا ایسا ایک بھی کیس سامنے لایا جائے جس کا سبب اونٹ یا اونٹنی بنی ہو۔ دیگر کسانوں نے بھی اونٹوں سے دور رہنے کے وزارت صحت کے مشورے کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کسانوں کا کہنا ہے ہم کئی دہائیوں سے اونٹوں کے ساتھ رہ رہے ہیں اج تک ایسا مسئلہ نہیں ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کی صحت کے شعبے سے متعلق ٹیمیں متعدد مرتبہ سعودی حکام سے مل چکی ہیں جبکہ اونٹوں کی محبت کے ذریعے'' خود کش کارروائی'' کے حامی سعودی کسان ہیں کہ اونٹوں سے اپنی محبت سے باز آنے والے ہر گز نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں