.

مصر: 225 ارکان پر مشتمل دہشت گرد گروہ کی گرفتاری

گرفتار کیے گئے افراد کا اخوان المسلمون کے حامیوں سے تعلق تھا:وزیرداخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے وزیرداخلہ محمد ابراہیم نے دہشت گردوں کے مبینہ چوالیس سیلوں کا انکشاف کیا ہے جن کا ان کے بہ قول برطرف صدر محمد مرسی کی کالعدم جماعت اخوان المسلمون سے تعلق ہے۔

وزیرداخلہ نے یہ انکشاف سوموار کو دارالحکومت قاہرہ میں براہ راست نشر کی گئی ایک نیوزکانفرنس کے دوران کیا ہے اور بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ان دہشت گرد سیلوں سے تعلق رکھنے والے دوسو پچیس اراکین کو گرفتار کرلیا ہے۔

انھوں نے نیوز کانفرنس کے دوران ایک گرفتار رکن کا اعترافی ویڈیو بیان بھی دکھایا ہے اور کہا ہے کہ جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے،ان کا قاہرہ سے متصل صوبہ جیزہ میں النہضہ چوک میں گذشتہ سال جولائی اور اگست میں دھرنا دینے والے اخوان المسلمون کے حامیوں سے تعلق تھا۔واضح رہے کہ مصری سکیورٹی فورسز نے 14 اگست 2013ء کو طاقت کے وحشیانہ استعمال کے ذریعے اس مقام پر دھرنے کا شرکاء کو منشتر کردیا تھا اور اس کارروائی میں سیکڑوں افراد مارے گئے تھے۔

مصری وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ،ان کا ''اجناد مصر'' نامی تنظیم سے تعلق ہے۔اس غیر معروف تنظیم نے قاہرہ میں حال ہی میں بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔ان بم حملوں میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔انھوں نے اس گروپ کے سربراہ کی شناخت جمال عبدالرحیم بتائی ہے اور کہا ہے کہ اس گروپ کے باقی ارکان سے دھماکا خیز مواد بھی پکڑا گیا ہے۔

وزیرداخلہ نے مزید بتایا کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ''ضرررساں مواد''تیار کرنے والی گیارہ ذخیرہ گاہیں پکڑی گئی ہیں اور وہاں سے تینتالیس دستی بم اور بڑی مقدار میں بم کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔

یادرہے کہ جولائی 2013ء میں مصر کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے جنگجوؤں نے دارالحکومت قاہرہ اور جزیرہ نما سیناء میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر متعدد حملے کیے ہیں۔ مصر کی عبوری حکومت نے ان حملہ آوروں کا تعلق اخوان المسلمون سے جوڑا تھا اور اس کی بنا پر ملک کی اس سب سے منظم دینی سیاسی جماعت کو دہشت گرد تنظیم قراردے دیا تھا۔