شیعہ مسلک کی اذان پر مصری قاری کا جامعہ ازھر سے اخراج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازھر نے عراق میں اہل تشیع مسلک کی اذان دینے والے ایک مصری عالم دین قاری فرج اللہ الشاذلی کے جامعہ میں قرات پر پابندی عائد کر دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جامعہ الازھر کے سیکرٹری ڈاکٹر عباس شومان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ قاری فرج اللہ الشاذلی کی حال ہی میں ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں انہیں عراق کی جامع مسجد کوفہ میں اہل تشیع مسلک کی اذان دینے اور امام مہدی موعود کی آمد کی تیاریوں پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے قائدین کو امام مہدی کی آمد کے استقبال کے لیے تیار کرنےکا عہد کیا تھا۔

ڈاکٹر عباس شومان کا کہنا ہے کہ جامعہ الازھر اہل سنت والجماعت مسلک کا نمائندہ ادارہ ہے جو کسی بھی دوسرے مخالف مسلک سے تعلق رکھنے والے قراء کو اپنے ہاں کام کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ میں وزیر اوقاف ومذہبی امور سے بھی درخواست کروں گا کہ وہ ملک بھر کی مساجد میں اہل سنت مسلک کی اذان کو یقینی بنائیں اور قاری فرج اللہ الشاذلی کی عراق میں شیعہ اذان کی تحقیقات کرائیں۔

یال رہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر ایک ویڈیو تیزی سے مقبول ہو رہی ہے جس میں مصر کے معروف قاری الشیخ فرج اللہ الشاذلی کو عراق میں جامع مسجد کوفہ میں اہل تشیع مسلک کی اذان دیتے دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے یہ اذان گذشتہ جمعہ کے روز نماز جمعہ سے قبل دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں