.

اسرائیلی عرب پر داعش سے تعلق کے شبے میں فرد جُرم عائد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک اسرائیلی عدالت نے مقبوضہ فلسطین سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان پر شام میں بر سر جنگ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] میں مبینہ شمولیت کی پاداش میں فرد جرم عائد کی ہے۔

اسرائیلی سیکیورٹی اور جوڈیشل ذرائع کے مطابق فلسطینی عرب شہری نے "داعش" میں بھرتی ہو کر شام میں تنظیم کے مراکز سے جنگی تربیت حاصل کی اور کئی ماہ تک شام میں تنظیم کے پرچم تلے جنگ میں شریک رہا ہے۔

اسرائیلی پراسیکیوٹر کی جانب سے جاری ایک بیان میں بھی بتایا گیا ہے کہ 23 سالہ احمد شوربجی کا تعلق شمالی اسرائیل کے'ام الفحم' کے علاقے سے ہے۔ تین دوسرے عرب شہریوں کے ہمراہ شوربجی 16جنوری کو ترکی کے راستے شام داخل ہوا، جہاں اس نے القاعدہ سے وابستہ تنظیم"داعش" میں شمولیت اختیار کی۔

اسرائیل میں داخلی سلامتی کے ادارے"شن بیت" کے مطابق شوربجی کو اسرائیل واپسی پر بیس اپریل کو حراست میں لیا گیا۔ اسرائیلی خفیہ ادارے کے مطابق فلسطینی عرب نوجوان انتہا پسند اسلامی تنظیم داعش سے متاثر ہے اور اسی کے پرچم تلے شام میں جہادی کارروائیوں میں حصہ لیتا رہا ہے۔

اس نے شام ہی میں القاعدہ کے تربیتی مراکز سے جنگی تربیت حاصل کی اور صدر بشارالاسد کے خلاف دو اہم معرکوں میں بھی حصہ لیا۔ شن بیت کا کہنا ہے کہ فلسطینی عرب شہریوں کا شام میں جہاد کے لیے جانا ایک خطرناک رحجان ہے اور اس پر قابو پانے کی کوشش کی جائے گی۔

اسرائیل شہر حیفاء میں قائم ایک عدالت نے شوربجی کے خلاف کالعدم تنظیم سے تعلق اور غیر قانونی طور پر بیرون ملک سفر کرنے کے الزام میں فرد جرم سنائی۔