.

اسماعیل ھنیہ نے غزہ میں وزیر اعظم ہاؤس خالی کر دیا

یاسر عرفات بلڈنگ بھی 'الفتح' کے حوالے کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی تنظیموں اسلامی تحریک مزاحمت"حماس" اور تحریک فتح کے درمیان طے پائے مفاہمتی معاہدے کے تحت غزہ کی پٹی میں حماس کے وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ نے سات سال سے اپنے زیر استعمال وزیر اعظم ہاؤس خالی کر دیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے فوٹوگرافر نے غزہ وزیر اعظم ہاؤس کی تازہ تصاویر شائع کی ہیں۔ اب یہ عمارت مخلوط قومی حکومت کے نئے سربراہ کے استعمال میں ہو گی۔

مغربی غزہ میں واقع وزیر اعظم ہاؤس کے دو دفاتر سے حماس کے وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ کا سامان وزارت داخلہ کی گاڑیوں پر ان کے گھر منتقل کردیا گیا ہے۔ گذشتہ روز وزیر اعظم ہاؤس خالی کیے جانے کے بعد غزہ وزارت داخلہ نے سنہ 2007ء کے بعد حماس کے زیر استعمال رہنے والے دفتر کی تصاویر لینے کی اجازت دے دی تھی۔

غزہ وزارت داخلہ کے ترجمان ایام البزم نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ حماس اور الفتح کے درمیان طے پائے مفاہمتی معاہدے کے بعد وزیر اعظم ہاؤس اور سابق فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کی رہائش گاہ کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ ان دونوں عمارتوں کو اب الفتح کے حوالے کر دیا جائے گا۔



انہوں نے کہا کہ دونوں اہم عمارتوں کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور انہیں معاہدے کے تحت جلد ہی الفتح کی قیادت کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ غزہ کے ایک سیکیورٹی ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ وزیر اعظم ہاؤس اور یاسر عرفات بلڈنگ کی چابیاں الفتح کے کس لیڈر کو دی جائیں گی"۔

خیال رہے کہ حماس اور صدر محمود عباس کی جماعت الفتح نے 23 اپریل کو قومی مصالحتی معاہدے کے تحت فلسطین میں قومی حکومت کی تشکیل پر اتفاق کیا تھا۔ مخلوط قومی حکومت ایک عبوری حکومت کا درجہ رکھے گی جو پیش آئند پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے انتظامات کی ذمہ دار ہو گی۔

حماس کے سبکدوش وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا تھا کہ دونوں جماعتوں نے قومی حکومت کی تشکیل کے لیے تقریبا تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ کل ہی کے روز الفتح اور حماس کی قیادت کا ایک اہم اجلاس غزہ کی پٹی میں بھی ہوا جس میں قومی حکومت میں شامل وزراء کے ناموں پر غور کیا گیا۔