.

داعش" کے دو کمانڈر عالمی دہشت گرد قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکومت نے شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف برسرجنگ شدت پسند تنظیم امارت اسلامیہ عراق وشام [داعش] کے دو اہم کمانڈروں عبدالرحمان محمد الظافر اور عبدالرحمان مصطفیٰ القادولی کو عالمی دہشت گرد قرار دے کر ان پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق کی بناء پر سعودی عرب کے شہری عبدالرحمان محمد ظافر الدبیسی الجھنی المعروف ابو الوفاء اور اس کے ایک عراقی ساتھی عبدالرحمان مصطفیٰ القادولی کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ان پر پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ دونوں کمانڈر القاعدہ کے ایک بغل بچہ دہشت گرد گروپ "داعش" سے تعلق رکھتے ہیں اور پچھلے کئی سال سے مختلف ملکوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

خیال رہے کہ کثیر العیال سعودی عبدالرحمان محمد الظافر الدبیسی الجھنی مدینہ منورہ کی الازھر کالونی کا رہائشی ہے۔ اس کی عمر تقریبا چالیس سال ہے۔ تاہم مسلسل غائب رہنے پر اس کی اہلیہ نے کچھ عرصہ قبل عدالت کے ذریعے خلع لے لیا تھی۔

عبدالرحمان ظافر الجھنی نے میٹرک کے بعد القاعدہ میں شمولیت اختیار کی اور سنہ 2005ء میں افغانستان چلا گیا۔ وہاں سے ایران کے راستے دو سال قبل شام پہنچا اور دولت اسلامیہ عراق وشام میں شامل ہو گیا۔ سنہ 2011ء میں سعودی عرب نے 47 اشتہاریوں کی فہرست جاری کی جس میں عبدالرحمان الجھنی کا نام بھی شامل تھا۔

بلیک لسٹ ہونے والے دوسرے القاعدہ کمانڈر عبدالرحمان مصطفیٰ القادولی کا تعلق عراق سے ہے۔ القادولی سنہ 1973ء میں موصل میں پیدا ہوا۔ سنہ 2004ء میں القاعدہ میں شامل ہوا اور پچھلے کئی سال سے تنظیم کے کلیدی عہدوں پر فائز رہا ہے۔ القادولی پہلے عراق میں لڑتا رہا اور پچھلے دو سال سے شام میں"داعش" کا مالیات کا ذمہ دار ہے۔