.

شام میں بمباری سے 40 افراد ہلاک

بمباری صوبہ حلب اور صوبہ ادلب میں کی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران بشار رجیم کی بمباری کے نتیجے میں 40 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ شام میں صدارتی انتخاب سے تقریبا دو ہفتے پہلے بھی بشار رجیم کی طرف سے بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ چوتھے سال میں داخل ہو جانے والی اس خونریزی میں اب تک ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق سے متعلق مانیٹرنگ گروپ کے مطابق شام میں سویلین بستیوں اور شہریوں پر بمباری ایک معمول بن چکا ہے۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والی اسی بمباری کے باعث شمالی صوبے حلب کے علاقے اتریب میں پانچ مرتبہ فضائی حملہ کیا گیا جس سے 15 لوگ ہلاک ہو گئے۔ ان میں تین طبی عملے کے کارکن بھی شامل ہیں جو بمباری کے زخمیوں کی مدد کیلیے علاقے میں پہنچے لیکن انہیں بمباری کی زد میں لے لیا گیا۔

اس علاقے میں چار باغی بھی بشار رجیم کا نشانہ بنے ہیں۔ جبکہ 21 شہری شمال مغربی علاقے سر مادا میں بھی بمباری کی وجہ سے لقمہ اجل بنے ہیں۔ یہ بمباری صوبہ ادلب میں کی گئی تھی۔ واضح رہے شام میں بمباری اور دیگر کارروائیوں کے دوران یومیہ بنیادوں پر اوسطا کم از کم دو سو شہری ہلاک ہو رہے۔

مبصرین کے مطابق اس خونی ماحول میں 3 جون کو امکانی صدارتی انتخاب کا شفاف اور غیر جانبدارانہ ہونا ممکن نہیں ہے۔ شام کی متحدہ اپوزیشن، باغی اور عرب دنیا کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک بھی شام کے متوقع صدارتی انتخاب کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔