.

یومِ نکبہ:فلسطینیوں کے مظاہرے،اسرائیلی فورسز سے جھڑپیں

غرب اردن اور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کا اسرائیلی قبضے کے خلاف احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دریائے اردن کے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں نے 1948ء میں اپنی سرزمین پر صہیونی ریاست کے قیام کی چھیاسٹھویں برسی کے موقع پر احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں اور ان کی اسرائیلی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

فلسطینیوں نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے نزدیک واقع عفر جیل کے باہرجمعرات کو مظاہرہ کیا اور اسرائیلی جیلوں میں قید اپنے ہزاروں بھائیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر اسرائیلی بارڈر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کردی جس سے ایک فلسطینی زخمی ہوگیا۔اس کو رام اللہ کے اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔

مغربی کنارے کے شہروں نابلس اور الخلیل میں فلسطینیوں نے یوم نکبہ پر ریلیاں نکالی ہیں۔رام اللہ میں نکبہ کی چھیاسٹھویں برسی کے موقع پر سائرن بجائے گئے اور تمام شہریوں نے چھاسٹھ منٹ تک خاموشی اختیار کی۔واضح رہے کہ فلسطینی چھیاسٹھ برس قبل اپنے آباء واجداد کو زبردستی ان کے آبائی گھروں سے نکالنے اور اپنی آبائی سرزمین پر صہیونیوں کے قبضے کو نکبہ (الم ناک تباہی) کا نام دیتے ہیں اور اس موقع پر ہر سال احتجاج کرتے ہیں۔

فلسطینیوں نے مقبوضہ بیت المقدس اور رام اللہ کے درمیان واقع قلندیہ چیک پوائنٹ پر مظاہرہ کیا اور ٹائروں کو جلا کر احتجاج کیا۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے بارڈر پولیس کی جانب پتھراؤ کیا جس کے جواب میں پولیس نے ربر کی گولیاں چلائیں اور اشک آور گیس کے گولے پھینکے۔

غزہ کی پٹی میں بھی سیکڑوں افراد نے اسرائیل کے ساتھ واقع ایریز بارڈر کراسنگ کے نزدیک مارچ کیا۔انھوں نے فلسطینی پرچم اور بینزر اٹھا رکھے تھے جن میں فلسطینی مہاجرین کو واپسی کا حق دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے بدھ کی شام ایک نشری تقریر میں کہا:''نکبہ کی اس چھیاسٹھویں برسی کے موقع پر ہمیں امید ہے کہ اس سال طویل عر صے سے جاری ہمارے مصائب کا خاتمہ ہوجائے گا۔اب وقت آگیا ہے کہ جدید تاریخ کے طویل ترین قبضے کا خاتمہ کیا جائے اور اسرائیلی قیادت کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فلسطینیوں کے لیے فلسطین کے سوا کوئی مادر وطن نہیں ہے''۔

یادرہے کہ 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے وقت صہیونیوں کے مسلح جتھوں نے لاکھوں فلسطینیوں کو زبردستی ان کے آبائی علاقوں سے نکال باہر کیا تھا۔صہیونیوں نے سات لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو گھربار چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا۔فلسطینی تب سے ہرسال اسرائیل کے قیام کے خلاف یوم نکبہ مناتے ہیں۔

اب ان مہاجر فلسطینیوں کی اولادوں کی تعداد بڑھ کر پچاس لاکھ سے زیادہ ہوچکی ہے۔تب قریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار فلسطینی صہیونیوں کی چیرہ دستیوں کے باوجود اپنے آبائی علاقوں ہی میں قیام پذیر رہے تھے اور اسرائیل کے شہری بن گئے تھے۔اب ان کی آل اولاد کی تعداد چودہ لاکھ کے لگ بھگ ہے اور وہ اسرائیل کی کل آبادی کا بیس فی صد ہیں۔

اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امریکا کی ثالثی میں حال ہی میں ختم ہونے والے مذاکرات میں فلسطینی مہاجرین کی واپسی کا مسئلہ بھی زیر غور رہا ہے لیکن نو ماہ تک جاری رہنے والے ان مذاکرات میں کسی ایک بھی دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے اور اب فلسطینی جماعتوں حماس اور فتح کے درمیان مصالحت کے بعد اسرائیل نے یہ مذاکرات ہی معطل کردیے ہیں۔

فلسطینیوں کا یہ دیرینہ مطالبہ ہے کہ اسرائیل 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے ان کے علاقے واپس کرے۔اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں بیت المقدس پر قبضہ کیا تھا اور بعد میں اسے اپنی ریاست میں ضم کرلیاتھا لیکن عالمی برادری نے اس کے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔اب وہ مقبوضہ بیت المقدس کو اپنا دائمی اورغیر منقسم دارالحکومت قراردے رہا ہے اور اس نے اس مقدس شہر اور غرب اردن میں یہودی آبادکاروں کے لیے بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ بھی شروع کررکھا ہے جبکہ فلسطینی اسے اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی مجوزہ ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔