.

اسد ملیشیا کا حملہ، چھ ایرانی وافغانی جنگجو ہلاک

افغان جنگجو بھی ایران ہی میں سپرد خاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام باغیوں کے حملوں میں صدر بشار الاسد کی حمایت میں لڑنے والے چار ایرانی اور دو افغانی جنگجو ہلاک ہ وگئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق شام میں مارے جانے والے چار جنگجوؤں کی میتیں ان کے آبائی شہروں میں سپرد خاک کر دی گئی ہیں، جبکہ افغان جنگجوؤں کو بھی ایران ہی میں دفن کیا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی"تسنیم" کی رپورٹ کے مطابق شام میں باغیوں کے ہاتھوں مرنے والے چاروں جنگجوؤں کا تعلق پاسداران انقلاب سے ہے۔ وہ گذشتہ منگل کو شام میں بشارالاسد مخالف فوجیوں کے حملوں میں مارے گئے تھے، جنہیں ایران کے شمال مشرقی شہر خراسان کے دارالحکومت مشہد میں کل جمعرات کو رازداری میں سپرد خاک کیا گیا۔

شامی باغیوں کے ہاتھوں مرنے والے چاروں ایرانیوں کی شناخت عباس علی حمیدی، علی حسینی، قربان حسنی اور حسین قاسمی دانا کے ناموں سے ہوئی ہے۔

درایں اثنا"داشنگو" خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ دنوں شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے والے دو افغانی جنگجو بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے افغان شہریوں احمد حسینی اور حسن محمودی کو ایران کے شہر قُم میں دفن کیا گیا ہے۔ دونوں افغان شہری شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغیوں سے برسرجنگ گروپ "فاطمیون" کے پرچم تلے جنگ میں شریک تھے،جو باغیوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارے گئے۔

واضح رہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے والے گروپوں میں "فاطمیون" ،"اھل حق بریگیڈ"، خدام العقیلہ"، "ذولفقار" اور "ابو الفضل العباس" جیسے گروپ نمایاں طور پر شامل ہیں۔ ان گروپوں میں ایران، شام، افغانستان اور عراق سمیت کئی دوسرے ملکوں کے جنگجو شامل ہیں۔

خیال رہے کہ مارچ سنہ 2011ء کے بعد سے اب تک ایران کی جانب سے شامی صدر بشارالاسد کی نہ صرف جنگی سازوسامان کے ساتھ مدد فراہم کی جاتی رہی ہے بلکہ بڑی تعداد میں ایران کی نیم سرکاری فوج"پاسیج" اور پاسداران انقلاب کے اہلکار بھی اس جنگ میں حصہ لے چکے ہیں۔

گوکہ ایرانی حکومت یہ تسلیم نہیں کرتی کہ اس کی فوج اور جنگجو شام میں بشارالاسد کی وفاداری میں جنگ میں شامل ہیں لیکن تہران کی عسکری قیادت متعدد مرتبہ اس کا اعتراف ک رچکی ہے۔ حال ہی میں پاسداران انقلاب کے ایک سینیئر عہدیدار جنرل ھمدانی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران شام کی جنگ میں اپنے انقلاب کے دفاع کے لیے لڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام کی موجودہ جنگ "عراق۔ ایران" جنگ سے کم اہمیت کی حامل نہیں ہے۔ ایران کی نیم سرکاری فوج "باسیج" کے ایک لاکھ تیس ہزار جنگجو کسی بھی وقت شام میں جنگ کے لیے روانہ ہونے کو تیار ہیں"۔ جنرل ہمدانی کا کہنا تھا کہ بشارالاسد اور ان کے خاندان کے ساتھ ایران کے تعلقات ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد سے قائم ہیں۔ سنہ 1980ء سے 1988ء تک عراق۔ ایران جنگ کے دوران بشارالاسد کے والد حافظ الاسد نے ایران کی بھرپور مدد کی تھی۔ آج بھی بشارالاسد ایران ہی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔