.

عراقی فورسز کی فلوجہ پر بمباری، ہزاروں افراد بے گھر

داعش اور اس کے اتحادی مسلح قبائلیوں کے خلاف بڑی کارروائی میں شدت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج مغربی صوبے الانبار کے شہر فلوجہ میں القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں اور مسلح قبائل کے خلاف ایک بڑی کارروائی کررہی ہے اور اس نے ان کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں مزید ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

مقامی شہریوں نے بتایا ہے کہ فوج نے گذشتہ سات روز کے دوران فلوجہ کے مختلف رہائشی علاقوں میں توپخانے سے شدید گولہ باری کی ہے اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے''بیرل بم'' بھی برسائے ہیں۔ان تازہ حملوں کا مقصد شہر میں مقیم رہ جانے والے شہریوں کو نکال باہر کرنا ہے تاکہ مزاحمت کاروں کے صفایا کے لیے ایک بڑی کارروائی کی جاسکے۔

الانبار کے صوبائی دارالحکومت رمادی اور فلوجہ میں مسلح جنگجوؤں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی کے بعد چار لاکھ بیس ہزار سے زیادہ شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔ان دونوں شہروں کے بیشتر علاقوں پر گذشتہ جنوری سے القاعدہ سے وابستہ تنظیم دولت اسلامی عراق وشام (داعش) اور اس کے اتحادی مسلح قبائلیوں کا قبضہ ہے۔

اب عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے سنی اکثریتی ان دونوں شہروں سے مسلح جنگجوؤں کے خاتمے اور حکومت کی عمل داری قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔فلوجہ میں 6مئی کے بعد سے جاری لڑائی اور فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں پچپن افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہو چکے ہیں۔ان میں عام شہری اور جنگجو دونوں شامل ہیں۔ فوج کی حالیہ گولہ باری کے بعد گیارہ سو سے زیادہ خاندان (قریباً چھے ہزار افراد) اپنا گھربار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب جاچکے ہیں۔

فلوجہ کے مکینوں کا کہنا ہے کہ فوج شہر پر ہیلی کاپٹروں سے بیرل بم برسا رہی ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوچکی ہے اور ہورہی ہے۔واضح رہے کہ بیرل بم تیل کے ڈرموں میں باردو ،لوہا اور سیمنٹ کے آمیزے سے تیار کیے جاتے ہیں اور ان سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوتی ہے۔پڑوسی ملک شام میں بھی سرکاری فوج باغیوں کے خلاف لڑائی میں بیرل بموں کا استعمال کررہی ہے۔

عراقی حکومت نے شہری علاقوں میں بیرل بم برسانے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر ہلاکتوں سے بچنے کے لیے پیشگی حفاظتی تدابیر اختیار کررہی ہے۔عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے ترجمان علی الموساوی نے گذشتہ سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ''ہمیں اس غیرمعمولی جنگ میں خودکش بمباروں کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود صرف مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں ہی کو نشانہ بنایا جارہا ہے''۔

تاہم صوبہ الانبار میں تعینات ایک سکیورٹی عہدے دار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فلوجہ میں بیرل بم برسائے گئے ہیں۔اس افسر کے بہ قول عراقی فوج کو گھر گھر لڑائی کا تجربہ نہیں ہے جبکہ باغی اس میں مہارت رکھتے ہیں ،اس لیے ان کے خلاف کارروائی اور ان کے خاتمے کے لیے بیرل بم استعمال کیے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ داعش اور مقامی سنی جنگجوؤں نے دسمبر کے آخر میں رمادی ،فلوجہ اور بعض دوسرے قصبوں و شہروں میں اپنا کنٹرول قائم کر لیا تھا۔عراقی فوج مقامی قبائل کی مدد سے ان شہروں کا کنٹرول واپس لینے کے لیے جنگ آزما ہے لیکن پانچ ماہ سے زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود عراقی حکومت فلوجہ اور رمادی میں اپنی عمل داری قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔