.

لاکھوں شامی بچے پولیو کی زد میں ہیں: یونیسف ترجمان

تین سال کے دوران تیس لاکھ بچوں کو قطرے پلائے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یونیسف نے شام میں لاکھوں شامی بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے باوجود اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اب بھی جنگ زدہ علاقوں میں بچے پولیو کے سخت خطرے کی زد میں ہیں۔ واضح رہے یونیسف، عالمی ادارہ صحت، اور انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے آزاد ادارے شام کے طول و عرض میں متحرک ہیں۔

یونیسف کی علاقائی ترجمان جولیٹی ٹوما نے '' العربیہ '' کو بتایا: '' یونیسف اور اس کے ساتھ کام کرنے والے ادارے اب تک چھ مختلف مراحل میں 30 لاکھ بچوں کو پولیو کی ویکسی نیشن دے چکے ہیں۔ '' یونیسف ترجمان کے مطابق پولیو کے خلاف تازہ ترین مہم ابھی پچھلے ہفتے مکمل کی گئی ہے۔

دریں اثناء پولیو کنٹرول ٹاسک فورس کے نام سے کام کرنے والے ایک ادارے کا کہنا ہے کہ اس کی طرف سے حالیہ مہم کے دوران دس لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے ہیں۔ اس مہم کیلیے بدترین جنگ زدہ علاقے حلب، ادلب، حماہ ، دیرالزور، اللذاقیہ اور حسکہ کو ٹارگیٹ کیا گیا تھا۔ واضح رہے اس میں ٹاسک فورس کی ترکی کے قائم ایک ادارے نے مدد کی تھی۔

تاہم یونیسف کی ترجمان کا کہنا ہے کہ اب بھی لاکھوں ایسے بچے ہیں جن تک پولیو کے قطرے پہنچائے نہیں جا سکے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 30 لاکھ 23 ہزار بچے پانچ سال سے کم عمر ہیں جنہیں لاجسٹکس کی وجہ سے ابھی تک پولیو کے قطرے نہیں پلائے جا سکے ہیں۔ اس لیے یہ سخت خطرے میں ہیں۔

یونیسف کے مطابق ان بچوں کو پولیو سے بچانے کیلیے چھ ماہ میں چھ مرتبہ قطرے پلانے کی ضرورت ہے۔ ہم انہیں ایک یا دو مرتبہ ہی قطرے پلا سکے ہیں۔ ٹوما نے بتایا پچھلے چند ماہ کے دوران شام اور اس کے آس پاس کے ملکوں میں پولیو ٹیمیں 25 ملین لوگوں تک پہنچی ہیں۔ اس سے پہلے 1999 میں آخری بار پولیو کا مرض سامنے آیا تھا۔