.

لبنانی پوپ مقبوضہ بیت المقدس نہ جائیں:حزب اللہ کا انتباہ

مقدس سرزمین کا دورہ سیاسی اہمیت کا حامل نہیں: میرونائٹ پوپ کا موقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی طاقتور شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے میرونائٹ چرچ کے سربراہ سے کہا ہے کہ وہ پاپائے روم پوپ فرانسیس کے استقبال کے لیے مقبوضہ بیت المقدس نہ جائیں کیونکہ ان کے اس دورے کے منفی مضمرات ہوں گے۔

حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے سربراہ ابراہیم امین السید نے جمعہ کو میرونائٹ پادری بشارہ الرائی سے ملاقات کی ہے اور انھیں ان کے مجوزہ دورے سے متعلق اپنی جماعت کے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔

حزب اللہ پوپ بشارہ بطروس الرائی کے اسی ماہ پوپ فرانسیس کے ہمراہ مقبوضہ بیت المقدس اور مقدس سرزمین (ہولی لینڈ) کے دورے کی مخالفت کررہی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ پوپ بشارہ وہاں جانے سے قبل اس کے تحفظات کو ملحوظ خاطر رکھے۔

حزب اللہ کے قریب سمجھے جانے والے اخبار السفیر نے 3 مئی کی اشاعت میں اس دورے پر ایک تنقیدی تبصرے میں لکھا تھا کہ ''یہ ایک تاریخی غلطی ہوگی''۔حزب اللہ نواز ایک اور روزنامے الاخبار نے لکھا تھا کہ لبنانی سیاست دانوں کا ایک گروپ بشارہ الرائی کو اسرائیل کے مقبوضہ بیت المقدس کے دورے پر جانے سے روکنے کی کوشش کرے گا۔

لیکن پوپ بشارہ کا موقف ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس میں پوپ فرانسیس کے 24 سے 26 مئی تک دورے کے موقع پر استقبال کے لیے جارہے ہیں،اس لیے یہ معمول کی بات ہے اور ان کے اس دورے کی کوئی سیاسی اہمیت نہیں ہے۔

البتہ ان کا یہ دورہ سفارتی اہمیت کا حامل ضرور ہے کیونکہ لبنان ٹیکنیکل طور پر اسرائیل کے ساتھ حالت جنگ میں ہے اور اس کے شہریوں کے صہیونی ریاست میں داخلے پر پابندی عاید ہے مگر میرونائٹ مذہبی پیشوا مقدس سرزمین میں جا سکتے ہیں۔

ان کے نائب بولوس سیاح بھی ان کے ہمراہ مقدس سرزمین جائیں گے۔انھوں نے بتایا تھا کہ لبنانی پادری اسرائیل کے کسی لیڈر کے ساتھ کوئی سیاسی ملاقات نہیں کریں گے۔ البتہ وہ فلسطینی صدر محمود عباس سے رام اللہ میں ملیں گے۔