.

فوجی 'بغاوت': بنغازی میں عسکریت پسندوں کیساتھ تصادم

تصادم ایک اعتدال پسند عالم دین کی ہلاکت کے بعد شروع ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی مین جمعہ کے روز آتشیں تصادم کے واقعات شروع ہو گئے ہیں۔ یہ واقعات اسلامی عسکری پسندوں اور ان فورسز کے درمیان شروع ہوئے ہے جنہیں ایک سابق جرنیل کی قیادت حاصل ہے اور وہ دہشت گردوں کے صفائے کی کوشش میں ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق خلیفہ خفتار کی زیر قیادت 2011 کی تحریک میں حصہ لینے والا گروپ جس نے معمر قذافی کا تختہ الٹا تھا طیاروں کی مدد سے اسلام پسندوں کے زیر قبضہ علاقوں میں بمباری کر رہا ہے۔ جوابا عسکریت پسندوں نے بھی طیارہ شکن گنوں سے جواب دیا ہے۔

اس سے قبل بن غازی کے جنوب میں سیدی فراج کے علاقے میں بھی دو گروپوں کا تصادم جاری ہے۔ واضح رہے ہفتار نامی عسکری گروپ خود کو نیشنل آرمی کے نام سے متعارف کراتا ہے۔ اسی دوران فورسز کے ایک ترجمان کا کہنا ہے اس نے دہشت گردوں کے خاتمے کیلیے بڑا آپریشن شروع کر رکھا ہے۔

تاہم فوج کے چیف آف سٹاف نے تردید کی ہے کہ سرکاری فوج نے بن غازی میں کوئی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ چیف آف سٹاف عبدالسلام جدالصالحین نے سرکاری ٹی وی پر اپنے ایک بیان میں بتایا ''فوج اور انقلابی ایسے کسی بھی گروہ کی مخالفت کریں گے جو بن غازی پر قبضے کی کوشش کرے گا۔ ''

ذرائع کے مطابق بہت سے سپاہیوں نے ہفتار میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ یہ سلسلہ سکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔ جمعہ کے روز شروع ہونے والے آتشیں واقعات مسلح افراد کے ہاتھوں ایک اعتدال پسند عالم کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے ہیں۔