بشار مخالف باغیوں کے خلاف ایرانی ڈرونز کا استعمال

ایران نے امریکی Scan Eagle ڈرون کی نقل تیار کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایرانی فوج، نیم سرکاری ملیشیا اور عام جنگجوؤں کے ساتھ شام میں ایران کے بغیر پائلٹ ڈرون طیارے بشار الاسد مخالفین پر حملوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی ڈرونز بشار الاسد کی حکومت بچانے اور باغیوں کی سرکوبی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

امریکی نیوز ویب پورٹل ڈیلی بیسٹ نے "شام میں ایرانی ڈرونز کی جنگ" کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا ہے کہ تہران، دمشق حکومت کو بچانے کے لیے ہرممکن تعاون کر رہا ہے۔ تعاون کی دیگر شکلوں میں بغیر پائلٹ کے ڈرون کا استعمال بھی جاری ہے۔ ایرانی ڈرون نے ابھی تک بشارالاسد کی حکومت کو گرنے سے بچائے رکھا ہے۔

رپورٹ میں واشنگٹن میں قائم تھینک ٹینک"c4ads" سے وابستہ تجزیہ نگار فارن فیرا کا ایک بیان بھی بہ طور ثبوت نقل کیا گیا ہے۔ مسٹر فیرا کا کہنا ہے کہ سنہ 2012-13ء میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ شام کے پاس ایرانی ساختہ شاھد، عازم، مہاجر، حماسہ اور سریر نامی کئی ڈرون طیارے جنگ میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران جس طرح شامی حکومت کی مدد کر رہا ہے، اس سے یہ بعید نہیں کہ وہ دمشق سرکار کو بچانے کے لیے ڈرون طیارے نہیں بھیج رہا ہو گا۔ شام میں دمشق، حماۃ اور دوسرے ہوائی اڈوں سے ایرانی ڈرون کو اڑانیں بھرتے دیکھا جا چکا ہے۔

گذشتہ برس نومبر میں حمص میں باغیوں نے ایرانی ساختہ ایک ڈرون مار گرایا تھا۔ اسی طرح دسمبر2013ء میں 'یاسر' نامی ایک چھوٹا ڈرون القاعدہ نواز النصرہ فرنٹ نے مار گرانے کے بعد اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھیں، جس کے بعد یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی تھی کہ ایرانی ڈرون بھی جنگ میں باغیوں کے خلاف بھرپور استعمال ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے شام میں ڈرون طیاروں کی فراہمی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایران ماضی میں بھی جنگوں میں ڈرون استعمال کرتا رہا ہے۔ سنہ 90ء کی دہائی میں عراق۔ایران جنگ کے دوران بھی تہران نے عراق کے حساس مقامات کی جاسوسی کے لیے ڈرون کا بھرپور استعمال کیا تھا۔ شام میں یہ طیارے دشمن کے ٹھکانوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنانے اور ان کی جاسوسی دونوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ پہلا خطہ ہے جہاں ڈرونز کا استعمال متعارف ہوا۔ سب سے پہلے اسرائیل نے سنہ 1980ء کے دوران جنوبی لبنان میں وادی البقاع میں لبنانی جنگجوؤں اور وہاں پر موجود شامی توپخانے کی جاسوسی کے لیے ڈرون طیارے استعمال کیے۔ فلسطینیوں کی جاسوسی اور ان پر میزائل حملوں کے لیے بھی اسرائیل ڈرونز استعمال کرتا چلا آ رہا ہے۔ سنہ 2001ءکے بعد امریکا نے افغانستان اور پاکستان میں طالبان اور القاعدہ جنگجوؤں کے خلاف ڈرون طیاروں کے ذریعے کارروائیاں شروع کیں تو اس کا شور پوری دنیا میں برپا ہوا، یہ کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔

"ڈیلی بیسٹ" کے مطابق ایران میں تیار کردہ 'یاسر' نامی ڈرون طیارہ دراصل امریکی ڈرون Scan Eagle کی جدید شکل ہے۔ امریکا کا اسی ماڈل کا ایک ڈرون 2012ء میں مشرقی ایران میں اتار لیا گیا تھا۔ بعد ازاں ایرانی حکام نے روسی ماہرین کی موجودگی میں اسے ایک نمائش میں بھی پیش کیا۔

امریکا کی جانب سے یہ موقف سامنے آیا کہ یہ ڈرون طیارے افغانستان میں اپنے جاسوسی مشن پر تھا جو غلطی سے ایران کی فضائی حدود میں داخل ہو گیا تھا۔ ایران نے اس طیارے میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کو"یاسر" نامی ڈرون طیارے کے لیے استعمال کیا اور ایک سال میں امریکی Scan Eagle کی نقل تیار کر لی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں