.

بن غازی: اسلام پسندوں کا خاتمہ کرنا ہے: نیشنل آرمی

لیبیا میں دو روزہ تصادم میں 24 ہلاک، 150 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی فوج کے ریٹائرڈ جنرل خلیفہ ہفتار نے بن غازی میں دو روز سے جاری مسلح تصادم کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں سے بن غازی کو چھڑوانے کیلیے اپنی مہم کو تیز کریں گے، یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک بن غازی کو مسلح لوگوں سے صاف نہیں کر دیا جاتا۔ اب تک اس تصادم میں 24 لوگ مارے جا چکے ہیں۔

ہفتے کے روز ایک ظاہری سکون کا ماحول ہے، جمعہ کے روز اسلامی عسکریت پسندوں کو زمینی اور فضائی دونوں حوالوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جنگ بندی کیلیے ایک مصالحتی کوشش بھی جاری ہے تاکہ دوبارہ خونریز تصادم کی نوبت نہ آئے۔

طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ 24 افراد کی ہلاکت کے علاوہ 150 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ جمعے کے روز سابق فوجی جنرل نے اپنی فورس کر اسلام پسندوں پر چڑھا دیا تھا۔ طرابلس میں نئی حکومت کے قیام کے ایک ہفتہ بعد ہی عسکریت پسندوں کی موجودگی کو تسلیم کیا گیا اور ان کے خلاف سرگرم ہونے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

واضح رہے ہفتار نامی عسکری گروپ جو خود کو نیشنل آرمی کے نام سے متعارف کراتا ہے بن غازی میں انصار شرعیہ نام کی تنظیم کو ہدف بنا رہا ہے۔ اس تنظیم کو امریکا نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ تاہم سرکاری فوج ایسے کسی آپریشن کی تردید کرتی ہے۔

دوسری جانب لیبیا میں شروع ہونے والے اس تصادم سے پہلے ہی امریکی میرینز کا دستہ اٹلی پہنچ چکا ہے۔ ہفتے کے روز سہ پہر کو لڑائی میں کمی کا رجحان تھا۔ بن غازی کا ائیر پورٹ بھی 24 گھنٹے کیلیے بند کر دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ لیبیا کی صورت حال کی وجہ سے اٹلی کیلیے خطرات ہیں۔