مرس کا مرض: سعودیہ میں ہلاکتیں 163 ہو گئیں

تازہ شکار ریاض، جدہ اور طائف کی تین خواتین بنیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مرس نامی جان لیوا مرض کے سب سے اہم شکار ملک سعودی عرب میں مرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 163 ہو گئی ہے۔ یہ بات سعودی وزارت صحت نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتائی ہے۔ سعودی وزارت صحت کے مطابق 2012 میں سعودی عرب میں اس مرض کے پھوٹنے سے اب تک مجموعی طور پر 520 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

سعودی عرب میں اب تک مرس سے ہونے والی آخری تین اموات سعودی خواتین ہیں جن کا انتقال جمعہ کے روز ہوا۔ یہ ریاض ، جدہ اور طائف کی رہنے والی تھیں۔ واضح رہے مصر، اردن، لبنان، ہالینڈ، متحدہ عرب امارات اور امریکا بھی اس مرض کی زد میں ہیں۔ تاہم سب سے زیادہ تعداد سعودی عرب کے لوگوں کی متاثر ہوئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے متعلقہ ممالک پر زور دیا ہے کہ اپنے ہاں انفیکشن سے بچاو کیلیے تدابیر بہتر بنائی جائیں۔ نیز اس بارے میں مزید ڈیٹا جمع کیا جائے اور حفاظتی اقدامات بہتر بنائے جائیں تاکہ اسے پھیلنے سے روکا جا سکے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق افریقی ممالک میں اس کا پھیلنا زیادہ خطرناک ہو گا اس لیے اس پر قابو پایا جائے۔

واضح رہے عالمی ادارہ صحت کی ٹیم پانچ دن کے دورے کے بعد سعودی عرب سے واپس جا چکی ہے۔ 2003 میں ایشیائی ممالک میں مرس کے پھیلنے سے 8273 لوگ متاثر ہوئے تھے جمن میں سے نو فیصد کی اموات ہو گئی تھیں۔ مرس کی بیماری عام طور پر پھیپھڑوں کے انفیکشن سے ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں