.

دمشق کے نواح میں لڑائی میں شامی فضائیہ کا سربراہ ہلاک

اسد حکومت نے باغیوں کے ساتھ لڑائی میں زخمی جنرل کی ہلاکت کی تصدیق کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی فضائی دفاعی افواج کے سربراہ جنرل حسین اسحاق دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع ایک قصبے میں باغی جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے ہیں۔

جنرل حسین دمشق سے جنوب مشرق میں واقع قصبہ ملیحہ میں باغیوں کے ساتھ لڑائی میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔شامی حکومت نے اتوار کو ان کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے ان کی ہلاکت کو صدر بشارالاسد کی حکومت کے لیے ایک بڑا نفسیاتی دھچکا قراردیا ہے۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اسد رجیم کی فضائیہ نے امریکا کے ممکنہ حملے کا سامنا کرنا تھا لیکن اس جنگ میں وہ باغیوں کے خلاف اپنی فضائی قوت کا استعمال کررہی ہے''۔

شامی فوج نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کی کمک کے ساتھ گذشتہ قریباً ایک سال سے ملیحہ کا محاصرہ کررکھا ہے اور وہ اس قبضے سے باغیوں کا قبضہ ختم کرانے اور انھیں باہر کرنے کے لیے جنگ آزما ہے۔شامی فضائیہ اس قصبے پر گذشتہ ایک ماہ سے مسلسل بمباری کررہی ہے۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے ابتدا میں ملیحہ میں پیش قدمی کی تھی لیکن بعد میں باغی جنگجو اس کی پیش قدمی کو روکنے میں کامیاب رہے ہیں اور انھوں نے اس قصبے کے وسط میں واقع متعدد سرکاری عمارتوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ تین سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران شامی فوج نے دارالحکومت دمشق میں تو اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے لیکن اس کے بیشتر نواحی قصبوں اور دیہات میں باغیوں کا قبضہ ہے اور شامی فوج ان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے اور توپخانے سے گولہ باری کررہی ہے لیکن ابھی تک وہ ان کا کنٹرول ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔