.

فلسطین میں قومی اتحاد کی حکومت کا چند دنوں میں قیام:حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی کی حکمراں اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ایک سینیر عہدے دار کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت اور تنظیم آزادیِ فلسطین پر مشتمل قومی اتحاد کی حکومت آیندہ چند دنوں میں تشکیل پاجائے گی۔

حماس کے وزیراعظم اسماعیل ہنئیہ کے ایک مشیر باسم نعیم نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت فتح کے ایک سینیر عہدے دار آیندہ ہفتے غزہ میں حماس کے عہدے داروں سے ملاقات کریں گے اور اس میں نئی عبوری حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات کو پایہ تکمیل کو پہنچایا جائے گا۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ فتح کے سینیر رہ نما عزام الاحمد آیندہ بدھ یا جمعرات کو غزہ پہنچ رہے ہیں۔وہ حماس کے وفد سے نئی مخلوط حکومت کے قیام سے متعلق مشاورت کریں گے اور اس کے بعد آیندہ ہفتے کے اوائل میں صدر محمود عباس اس نئی حکومت کے قیام کا اعلان کریں گے۔پھر وہ اس کو اعتماد کے ووٹ کے لیے پارلیمان میں پیش کریں گے۔

واضح رہے کہ تنظیم آزادی فلسطین میں بالادستی کی حامل فتح اور اس کی سیاسی حریف حماس کے درمیان گذشتہ ماہ مصالحتی مذاکرات کے نتیجے میں ٹیکنوکریٹس پر مشتمل قومی حکومت کی تشکیل سے متعلق مفاہمتی معاہدہ طے پایا تھا۔اس کے تحت غزہ کی پٹی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں حماس ،فتح اور دوسری چھوٹی جماعتوں پر مشتمل ایک مشترکہ عبوری حکومت قائم کی جائے گی اور اس کے چھے ماہ کے بعد فلسطینی علاقوں میں عام انتخابات کرائے جائیں گے۔

انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ان دونوں فلسطینی جماعتوں کے درمیان مصالحتی معاہدے کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ محمود عباس نے اسرائیل کے ساتھ امن کے بجائے اس کی دشمن جماعت حماس کے ساتھ امن کو ترجیح دی ہے۔اس کے بعد اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ گذشتہ نو ماہ سے جاری امن مذاکرات معطل کردیے تھے اور مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کی حکومت پر اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔

یاد رہے کہ حماس اور فتح کے درمیان 2007ء سے کشیدگی چلی آرہی تھی۔حماس نے فلسطینی علاقوں میں 2006 ء میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں اکثریت حاصل کی تھی اور حکومت بنائی تھی لیکن فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل اور مغربی ممالک کے دباؤ میں آ کر حماس کی اس منتخب حکومت کو ختم کردیا تھا جس کے ردعمل میں حماس نے غزہ کی پٹی میں اپنی الگ خودمختار حکومت قائم کرلی تھی اور وہاں سے فتح کے کارکنان کو ماربھگایا تھا۔