.

مصر: حماس کے قائدین کی شہریت منسوخی کا آغاز

برطرف صدر مرسی کے دور میں ہزاروں فلسطینیوں کو مصر کی شہریت دی گئی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری حکومت نے غزہ کی پٹی کی حکمراں جماعت اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے قائدین سمیت ہزاروں فلسطینیوں کی شہریت منسوخ کرنا شروع کر دی ہے۔

فلسطینی اور مصری میڈیا کے مطابق گذشتہ سال جولائی میں حماس کی مادر جماعت اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے صدر محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے مصر اور فلسطینی جماعت کے درمیان کشیدگی پائی جا رہی ہے اور اب اسی تناظر میں موجودہ مصری حکومت حماس کے قائدین کو ملک کی شہریت سے محروم کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ برطرف صدر مرسی کے ایک سالہ دور حکومت میں غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں فلسطینیوں کو مصر کی شہریت دی گئی تھی۔ان میں حماس کے سرکردہ رہ نما محمود الزہار سمیت متعدد اعلیٰ عہدے دار بھی شامل تھے۔ محمود الزہار کی والدہ مصری تھیں اور مصر نے انھیں پاسپورٹ بھی جاری کیا تھا۔

فلسطینی روزنامے القدس کی رپورٹ کے مطابق مصری حکام نے محمود الزہار سمیت بہت سے فلسطینیوں کی شہریت کی منسوخی کے لیے مؤثرالعمل اقدامات کیے ہیں۔ اخبار نے مصری ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس اقدام کے تحت ان فلسطینیوں کی شہریت منسوخ کی جارہی ہے جو بعض فلسطینی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں یا جن کے مصر کے کالعدم گروپوں سے تعلقات تھے۔

مصری قانون کے تحت ملک کی شہریت حاصل کرنے والے افراد پہلے پانچ سال کے دوران سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتے ہیں۔گذشتہ سال فلسطینی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈاکٹر مرسی کی حکومت نے مصری ماؤں کے ہاں پیدا ہونے والے پچاس ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو شہریت دینے سے اتفاق کیا تھا۔

گذشتہ ماہ ایک مصری روزنامے نے انکشاف کیا تھا کہ وزیر داخلہ محمد ابراہیم نے محمود الزہار کے خاندان کی جانب سے مصر کی شہریت کے حصول کے لیے دی جانے والی درخواست کو مسترد کردیا تھا اور انھوں نے یہ فیصلہ سکیورٹی وجوہ کی بنا پر کیا تھا۔

محمودالزہار نے بہ ذات خود گذشہ سال مصری شہریت ملنے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ وہ مصر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔